تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {” الْمُخَلَّفُوْنَ“} کا لفظی معنی ”پیچھے چھوڑ دیے جانے والے“ ہے، جبکہ یہ لوگ جان بوجھ کر خود پیچھے رہے تھے، تو بظاہر ان کے لیے لفظ {”مُتَخَلِّفُوْنَ“} (پیچھے رہنے والے) استعمال ہونا چاہیے تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے {” الْمُخَلَّفُوْنَ“} کا لفظ استعمال فرمایا۔ یعنی ان کی بدنیتی اور شامتِ اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انھیں ساتھ جانے کی توفیق ہی نہیں دی، بلکہ انھیں پیچھے چھوڑ دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمی کا نیک اعمال سے محروم رہنا اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس کے اعمالِ بد کی وجہ سے نیک اعمال کی توفیق سلب کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنگِ تبوک کے مخلّفین کے متعلق فرمایا: «وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِيْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ» [التوبۃ: ۴۶] ” اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لیے کچھ سامان ضرور تیار کرتے اور لیکن اللہ نے ان کا اٹھنا ناپسند کیا تو انھیں روک دیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔“ مزید دیکھیے سورۂ توبہ (۸۱)۔
➌ { شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا:} یعنی یہ اعراب کہیں گے کہ ہمارے مال مویشی اور بیوی بچے ہمارے آپ کے ساتھ چلنے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے، کیونکہ ان کی دیکھ بھال اور حفاظت کرنے والا کوئی نہ تھا، اس لیے ہماری اس کوتاہی پر آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں معاف فرما دے۔
➍ { يَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ:} یعنی یہ لوگ تمھارے مدینہ پہنچنے پر اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہیں گے جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں۔ مال مویشی اور اہل و عیال کی رکاوٹ ان کا جھوٹا بہانہ ہے۔ اسی طرح ان کا استغفار کے لیے کہنا محض بناوٹ ہے، ورنہ گناہ کا ایسا ہی احساس ہوتا تو ساتھ کیوں نہ جاتے۔ ان کے نہ جانے کا اصل سبب اللہ علام الغیوب نے اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے۔
➎ {قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا …:} یہ ان کی دونوں باتوں کا جواب ہے، فرمایا تم جو اپنے کہنے کے مطابق اپنے مال و اہل کی دیکھ بھال اور حفاظت کی وجہ سے ساتھ نہیں گئے، بتاؤ اگر اللہ تعالیٰ تمھیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور تمھارے جہاد سے پیچھے رہنے پر گھر میں موجود ہونے کے باوجود تمھارے اموال اور گھر والوں کو تباہ و برباد کر دے تو تمھیں اس سے کون بچا سکتا ہے؟ یا اگر وہ تمھیں کوئی فائدہ پہنچانا چاہے اور تمھارے جہاد پر جانے کے باوجود تمھارے اموال اور گھر والوں کی حفاظت کرے اور ان میں برکت اور اضافہ فرما دے توکون اسے روک سکتا ہے؟ جب نفع و نقصان کو کوئی روک نہیں سکتا تو اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مقابلے میں ان چیزوں کی پروا کیوں کرتے ہو؟ اور تم نے جو استغفار کے لیے کہا ہے، اگر تم فی الواقع اپنے کیے پر نادم ہو اور اللہ تعالیٰ تمھیں معاف کرنا چاہے تو کون اسے روک سکتا ہے؟ پھر اگر میں تمھارے لیے استغفار نہ بھی کروں تو تمھارا کچھ نقصان نہیں اور اگر تم نادم نہیں ہو، صرف بناوٹ کے طور پر استغفار کے لیے کہہ رہے ہو تو اس صورت میں اگر میں تمھارے لیے استغفار کر بھی دوں اور اللہ تعالیٰ تمھیں معاف نہ کرنا چاہے، بلکہ سزا دینا چاہے تو کون اسے روک سکتا ہے؟
➏ {بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا:} یعنی بات وہ نہیں جو تم نے سمجھ رکھی ہے کہ ہم زبان سے جو کچھ کہہ دیں گے مان لیا جائے گا اور ہمارے دل کا حال چھپا رہے گا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف موجود وقت ہی میں نہیں بلکہ ہمیشہ سے ان تمام اعمال سے پورا باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ ہمیشگی کا مفہوم {” كَانَ “} ادا کر رہا ہے۔ مفسر طبری کے الفاظ ہیں: {” بَلْ لَمْ يَزَلِ اللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مِنْ خَيْرٍ وَ شَرٍّ خَبِيْرًا “} ”بلکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کے تمام اچھے اور برے اعمال کی پوری خبر رکھنے والا رہا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[12] جب آپ حدیبیہ سے واپس مدینہ تشریف لا رہے تھے تو اس وقت یہ سورۃ نازل ہوئی اور اللہ نے آپ کو منافقوں کے خبث باطن اور آئندہ کردار سے بھی مطلع کر دیا کہ یہ لوگ طرح طرح کے بہانے اور عذر پیش کریں گے کہ ہم فلاں مجبوری کی وجہ سے آپ کے ساتھ نہ جا سکے۔ لہٰذا آپ اللہ سے ہمارے لئے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارا یہ قصور معاف فرمائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کا آپ کو استغفار کے لئے کہنا بھی ایک فریب ہے اور وہ آپ کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ انہیں آپ کے ساتھ نہ جانے کا واقعی بہت افسوس ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ وہ اپنی اس حرکت کو اپنا قصور سمجھتے ہیں، نہ انہیں کچھ افسوس ہے اور نہ ہی وہ اپنے لئے دعائے استغفار کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ یہ سب کچھ ان کا زبانی جمع خرچ ہے جس سے وہ آپ کو مطمئن رکھنا چاہتے ہیں۔
[13] یعنی اے منافقو! تم نے اس غزوہ سے عدم شمولیت میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ پھر اگر اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے گھروں میں موت سے دو چار کر دے یا اور کوئی مصیبت تم پر ڈال دے تو اس سے تمہیں کوئی بچا سکتا ہے یا تم خود اسے روک سکتے تھے؟ یا مثلاً تم اس سفر پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جاتے اور اللہ تمہارے اہل و عیال کو کوئی فائدہ پہنچانا چاہے یا اس سفر میں بھی فائدہ پہنچا دے تو کیا اسے کوئی روک سکتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آ رہے ہیں، تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی سے خبردار کر دیا کہ یہ بدباطن لوگ آ کر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال بچوں اور کام کاج کی وجہ سے نکل نہ سکے ورنہ ہم تو ہر طرح تابع فرمان ہیں ہماری جان تک حاضر ہے اپنی مزید ایمانداری کے اظہار کے لیے یہ بھی کہہ دیں گے کہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجئے۔
تو آپ انہیں جواب دے دینا کہ تمہارا معاملہ سپرد اللہ ہے وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچائے تو کون ہے جو اسے دفع کر سکے؟ اور اگر وہ تمہیں نفع دینا چاہے تو کون ہے جو اسے روک سکے؟ تصنع اور بناوٹ سے تمہاری ایمانداری اور نفاق سے وہ بخوبی آگاہ ہے، ایک ایک عمل سے وہ باخبر ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، دراصل تمہارا پیچھے رہ جانا کسی عذر کے باعث نہ تھا بلکہ بطور نافرمانی کے ہی تھا۔
صاف طور پر تمہارا نفاق اس کے باعث تھا تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں اللہ پر بھروسہ نہیں رسول کی اطاعت میں بھلائی کا یقین نہیں اس وجہ سے تمہاری جانیں تم پر گراں ہیں تم اپنی نسبت تو کیا بلکہ رسول اور صحابہ کی نسبت بھی یہی خیال کرتے تھے کہ یہ قتل کر دئیے جائیں گے ان کی بھوسی اڑا دی جائے گی ان میں سے ایک بھی نہ بچ سکے گا جو ان کی خبر تو لا کر دے۔
ان بدخیالیوں نے تمہیں نامرد بنا رکھا تھا تم دراصل برباد شدہ لوگ ہو کہا گیا ہے کہ «بورا» لغت عمان ہے جو شخص اپنا عمل خالص نہ کرے اپنا عقیدہ مضبوط نہ بنا لے اسے اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ میں عذاب کرے گا گو دنیا میں وہ بہ خلاف اپنے باطن کے ظاہر کرتے رہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذمُّ تعالى المتخلِّفين عن رسول الله في الجهاد في سبيله من الأعراب، الذين ضَعُفَ إيمانُهم وكان في قلوبهم مرضٌ وسوء ظنٍّ بالله تعالى، وأنهم سيعتذرون؛ بأنَّ أموالهم وأهليهم شغلتهم عن الخروج في سبيله، وأنَّهم طلبوا من رسول اللهِ - صلى الله عليه وسلم - أن يستغفرَ لهم؛ قال الله تعالى: {يقولون بألسنَتِهِم ما ليس في قُلوبِهِم}: فإنَّ طلَبَهم الاستغفارَ من رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يدلُّ على ندمهم وإقرارهم على أنفسهم بالذَّنب، وأنَّهم تخلَّفوا تخلُّفاً يحتاجُ إلى توبة واستغفار؛ فلو كان هذا الذي في قلوبهم؛ لكان استغفارُ الرسول نافعاً لهم؛ لأنَّهم قد تابوا وأنابوا، ولكنَّ الذي في قلوبهم أنَّهم إنَّما تخلَّفوا لأنَّهم ظنُّوا بالله ظنَّ السَّوْء، فظنُّوا {أن لن يَنقَلِبَ الرسولُ والمؤمنون إلى أهليهم أبداً}؛ أي: أنَّهم سيُقتلون ويُستأصلون، ولم يزلْ هذا الظنُّ يُزَيَّن في قلوبهم، ويطمئنُّون إليه حتى استحكَمَ، وسببُ ذلك أمران: أحدُهما: أنَّهم كانوا {قوماً بوراً}؛ أي: هلكى لا خير فيهم؛ فلو كان فيهم خيرٌ؛ لم يكن هذا في قلوبهم. الثاني: ضَعْفُ إيمانهم ويقينهم بوعد الله ونصرِ دينِهِ وإعلاءِ كلمتِهِ، ولهذا قال: {ومن لم يؤمن بالله ورسولِهِ}؛ أي: فإنَّه كافرٌ مستحقٌّ للعقاب، {فإنَّا أعْتَدْنا للكافرين سعيراً}.