تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ محمد (47) — آیت 7

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَنۡصُرُوا اللّٰہَ یَنۡصُرۡکُمۡ وَ یُثَبِّتۡ اَقۡدَامَکُمۡ ﴿۷﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے قدم جما دے گا۔ En
اے اہل ایمان! اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا
En
اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وه تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ﺛابت قدم رکھے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے حکم ہے کہ وہ اقامت دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت، اور اس کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کے ذریعے سے اس کی مدد کریں اور ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ جب وہ یہ تمام کام کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور ان کو ثابت قدمی عطا کرے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ طمانیت اور ثبات کے ذریعے سے ان کے دلوں کو مضبوط کرے گا، ان کے اجساد کو ان امور کو برداشت کرنے کی قوت عطا فرمائے گا۔ اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔
یہ ایک کریم اور وعدے کی سچی ہستی کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اپنے قول و فعل سے اس کی مدد کرے گا تو وہ بھی اپنے دوست کی مدد کرے گا اور اسے فتح و نصرت کے اسباب یعنی ثابت قدمی وغیرہ عطا کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا أمرٌ منه تعالى للمؤمنين أن يَنْصُروا الله بالقيام بدينِهِ والدعوة إليه وجهاد أعدائه، والقصد بذلك وجه الله؛ فإنَّهم إذا فعلوا ذلك؛ نصرهم وثبَّت أقدامهم؛ أي: يربط على قلوبهم بالصبر والطمأنينة والثبات، ويصبِّر أجسادهم على ذلك، ويعينُهم على أعدائهم؛ فهذا وعدٌ من كريم صادق الوعد أنَّ الذي ينصُرُه بالأقوال والأفعال سينصُرُه مولاه، وييسِّر له أسباب النصر من الثبات وغيره.