تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ محمد (47) — آیت 25

اِنَّ الَّذِیۡنَ ارۡتَدُّوۡا عَلٰۤی اَدۡبَارِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الۡہُدَی ۙ الشَّیۡطٰنُ سَوَّلَ لَہُمۡ ؕ وَ اَمۡلٰی لَہُمۡ ﴿۲۵﴾
بے شک وہ لوگ جو اپنی پیٹھوں پر پھر گئے، اس کے بعد کہ ان کے لیے سیدھا راستہ واضح ہو چکا، شیطان نے ان کے لیے (ان کا عمل) مزین کر دیا اور ان کے لیے مہلت لمبی بتائی۔ En
جو لوگ راہ ہدایت ظاہر ہونے کے بعد پیٹھ دے کر پھر گئے۔ شیطان نے (یہ کام) ان کو مزین کر دکھایا اور انہیں طول (عمر کا وعدہ) دیا
En
جو لوگ اپنی پیٹھ کے بل الٹے پھر گئے اس کے بعد ان کے لئے ہدایت واضح ہو چکی یقیناً شیطان نے ان کے لئے (ان کے فعل کو) مزین کر دیا ہے اور انہیں ڈھیل دے رکھی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹے پاؤ ں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے ﴿ یَعِدُهُمْ وَیُمَنِّیْهِمْ١ؕ وَمَا یَعِدُهُمُ الشَّ٘یْطٰ٘نُ اِلَّا غُ٘رُوْرًا (النساء: 4؍120) شیطان ان سے وعدے کرتاہے اور انھیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن حالة المرتدِّين عن الهدى والإيمان على أعقابهم إلى الضلال والكفران، ذلك لا عن دليل دلَّهم ولا برهان، وإنَّما هو تسويلٌ من عدوِّهم الشيطان، وتزيينٌ لهم وإملاءٌ منه لهم؛ {يعِدُهم ويمنِّيهم وما يعِدُهُم الشيطانُ إلاَّ غروراً}.