تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ محمد (47) — آیت 23

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمۡ وَ اَعۡمٰۤی اَبۡصَارَہُمۡ ﴿۲۳﴾
یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی۔ پس انھیں بہرا کر دیا اور ان کی آنکھیں اندھی کر دیں۔ En
یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا اور (ان کی) آنکھوں کو اندھا کردیا ہے
En
یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ جنھوں نے زمین میں فساد پھیلایا اور قطع رحمی کی ﴿ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب ہو گئے۔ ﴿ فَاَصَمَّهُمْ وَاَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ ایسی بات سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں جو انھیں فائدہ دے۔ پس ان کے کان ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر وہ ان آنکھوں سے عبرتوں اور آیات کو دیکھتے ہیں نہ دلائل و براہین کی طرف التفات کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك الذين}: أفسدوا في الأرض، وقطَّعوا أرحامهم. {لَعَنَهم الله}: بأن أبعدهم عن رحمته وقربوا من سخط الله {فأصمَّهم وأعمى أبصارَهم}؛ أي: جعلهم لا يسمعون ما ينفَعُهم ولا يبصِرونه؛ فلهم آذانٌ ولكن لا تسمعُ سماع إذعانٍ وقَبولٍ، وإنَّما تسمع سماعاً تقومُ بها حجةُ الله عليها، ولهم أعينٌ ولكن لا يبصِرون بها العبرَ والآيات، ولا يلتفتونَ بها إلى البراهين والبيِّنات.