تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ محمد (47) — آیت 22

فَہَلۡ عَسَیۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ تُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَکُمۡ ﴿۲۲﴾
پھر یقینا تم قریب ہو اگر تم حاکم بن جاؤ کہ زمین میں فساد کرو اور اپنے رشتوں کو بالکل ہی قطع کر دو۔ En
(اے منافقو!) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہو جاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو
En
اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر فرماتا ہے جو اپنے رب کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے، خیر کی طرف آنے کی بجائے شر کی طرف بھاگتا ہے، لہٰذا فرمایا: ﴿فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو یعنی یہ دو امور ہیں یا تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر التزام اور اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، پس وہاں بھلائی، ہدایت اور فلاح ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی اور اس سے اعراض کرنا، تب اس صورت حال میں فساد فی الارض، معصیت پر عمل اور قطع رحمی کے سوا کچھ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر تعالى حال المتولِّي عن طاعة ربِّه، وأنَّه لا يتولَّى إلى خيرٍ، بل إلى شرٍّ، فقال: {فهل عسيتُمْ إن تَوَلَّيْتُم أن تفسدوا في الأرض وتقطِّعوا أرحامكم}؛ أي: فهما أمران: إمَّا التزامٌ لطاعة الله وامتثالٌ لأوامره؛ فثَمَّ الخيرُ والرشدُ والفلاح. وإمَّا إعراضٌ عن ذلك وتولي عن طاعةِ الله؛ فما ثَمَّ إلاَّ الفساد في الأرض بالعمل بالمعاصي وقطيعة الأرحام.