تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ محمد (47) — آیت 17

وَ الَّذِیۡنَ اہۡتَدَوۡا زَادَہُمۡ ہُدًی وَّ اٰتٰہُمۡ تَقۡوٰىہُمۡ ﴿۱۷﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے ہدایت قبول کی اس نے انھیں ہدایت میں بڑھادیا اور انھیں ان کا تقویٰ عطا کر دیا۔ En
اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں ان کو وہ ہدایت مزید بخشتا اور پرہیزگاری عنایت کرتا ہے
En
اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں اللہ نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا ہے اور انہیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ہدایت یافتہ لوگوں کا حال بیان کیا۔ فرمایا: ﴿ وَالَّذِیْنَ اهْتَدَوْا وہ لوگ جنھوں نے ایمان، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی اتباع کے ذریعے سے ہدایت پائی ﴿ زَادَهُمْ هُدًى اللہ تعالیٰ نے ان کی قدر و توقیر کے لیے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا ﴿ وَّاٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ اور انھیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی۔ یعنی انھیں خیر کی توفیق بخشی اور شر سے ان کی حفاظت کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دو قسم کی جزا کا ذکر کیا ہے یعنی علم نافع اور عمل صالح۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم بيَّن حالَ المهتدين، فقال: {والذين اهتدَوْا}: بالإيمان والانقياد واتِّباع ما يرضي الله {زادهم هدىً}: شكراً منه تعالى لهم على ذلك، {وآتاهم تَقْواهم}؛ أي: وفَّقهم للخير، وحفِظَهم من الشرِّ. فذكر للمهتدين جزاءين: العلم النافع، والعمل الصالح.