تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے ہدایت یافتہ لوگوں کا حال بیان کیا۔ فرمایا: ﴿ وَالَّذِیْنَاهْتَدَوْا﴾ وہ لوگ جنھوں نے ایمان، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی اتباع کے ذریعے سے ہدایت پائی ﴿ زَادَهُمْهُدًى﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی قدر و توقیر کے لیے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا ﴿ وَّاٰتٰىهُمْتَقْوٰىهُمْ ﴾”اور انھیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی۔“ یعنی انھیں خیر کی توفیق بخشی اور شر سے ان کی حفاظت کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دو قسم کی جزا کا ذکر کیا ہے یعنی علم نافع اور عمل صالح۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم بيَّن حالَ المهتدين، فقال: {والذين اهتدَوْا}: بالإيمان والانقياد واتِّباع ما يرضي الله {زادهم هدىً}: شكراً منه تعالى لهم على ذلك، {وآتاهم تَقْواهم}؛ أي: وفَّقهم للخير، وحفِظَهم من الشرِّ. فذكر للمهتدين جزاءين: العلم النافع، والعمل الصالح.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔