تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ محمد (47) — آیت 16

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّسۡتَمِعُ اِلَیۡکَ ۚ حَتّٰۤی اِذَا خَرَجُوۡا مِنۡ عِنۡدِکَ قَالُوۡا لِلَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا ۟ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ ﴿۱۶﴾
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تیری طرف کان لگاتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ تیرے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنھیں علم دیا گیا ہے، کہتے ہیں ابھی اس نے کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑے۔ En
اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے یہاں تک کہ (سب کچھ سنتے ہیں لیکن) جب تمہارے پاس سے نکل کر چلے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو علم (دین) دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ (بھلا) انہوں نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں
En
اور ان میں بعض (ایسے بھی ہیں کہ) تیری طرف کان لگاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب تیرے پاس سے جاتے ہیں تو اہل علم سے (بوجہ کند ذہنی وﻻپرواہی کے) پوچھتے ہیں کہ اس نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے اور وه اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں ﴿ مَّنْ یَّ٘سْتَمِعُ اِلَیْكَ کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اسے سنتے ہیں، قبول کرنے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی غرض سے نہیں، بلکہ اس طرح سنتے ہیں کہ ان کے دل اس سے روگرداں ہوتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے نکل کر جاتے ہیں، تو جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے، ان سے کہتے ہیں۔ جو کچھ آپ نے کہا اور جو کچھ انھوں نے سنا جس میں انھیں کوئی رغبت نہ تھی، اس کے بارے میں استفہام کے انداز میں کہتے ہیں: ﴿ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا یعنی ابھی ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا؟ یہ ان کا انتہائی مذموم رویہ ہے، کیونکہ اگر وہ بھلائی کے خواہش مند ہوتے تو آپ کی بات غور سے سنتے، ان کے دل اس بات کو محفوظ کر لیتے، ان کے جوارح اس کی اطاعت میں سرنگوں ہوتے، مگر ان کا حال تو اس کے برعکس تھا، اس لیے فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی، ان کے لیے بھلائی کے تمام دروازے بند کر دیے، کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی جن میں وہ محض باطل کی خواہش رکھتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: ومن المنافقين {مَن يستمعُ إليك}: ما تقول؛ استماعاً لا عن قَبول وانقيادٍ، بل معرضةٌ قلوبهم عنه، ولهذا قال: {حتى إذا خرجوا من عندك قالوا للذين أوتوا العلم}: مستفهمينَ عمَّا قلتَ وما سمعوا ممَّا لم يكنْ لهم فيه رغبةٌ: {ماذا قال آنفاً}؛ أي: قريباً! وهذا في غاية الذمِّ لهم؛ فإنَّهم لو كانوا حريصين على الخير؛ لألْقَوْا إليه أسماعهم ووعتْه قلوبُهم وانقادتْ له جوارحهم، ولكنَّهم بعكس هذه الحال، ولهذا قال: {أولئك الذين طَبَعَ الله على قلوبهم}؛ أي: ختم عليها وسدَّ أبواب الخير التي تصل إليها بسبب اتِّباعهم أهواءهم التي لا يهوون فيها إلاَّ الباطل.