تو وہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ ان پر اچانک آجائے، پس یقینا اس کی نشانیاں آچکیں، پھر ان کے لیے ان کی نصیحت کیسے ممکن ہو گی ، جب وہ ان کے پاس آجائے گی۔
En
اب تو یہ لوگ قیامت ہی کو دیکھ رہے ہیں کہ ناگہاں ان پر آ واقع ہو۔ سو اس کی نشانیاں (وقوع میں) آچکی ہیں۔ پھر جب وہ ان پر آ نازل ہوگی اس وقت انہیں نصیحت کہاں (مفید ہوسکے گی؟)
تو کیا یہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وه ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں، پھر جبکہ ان کے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا؟
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
کیا یہ اہل تکذیب منتظر ہیں ﴿ اِلَّاالسَّاعَةَاَنْتَاْتِیَهُمْبَغْتَةً﴾ کہ قیامت کی گھڑی ان کے پاس آئے، یعنی اچانک آ جائے انھیں شعور بھی نہ ہو ﴿ فَقَدْجَآءَؔاَشْرَاطُهَا﴾ یعنی قیامت کی وہ علامات آ چکی ہیں جو اس کے قریب آجانے پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿ فَاَنّٰىلَهُمْاِذَاجَآءَتْهُمْذِكْرٰىهُمْ﴾ یعنی جب قیامت کی گھڑی آ جائے گی، ان کی مدت مقررہ اختتام کو پہنچ جائے گی تو ان کا نصیحت پکڑنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہونا کس کام آئے گا؟ یہ سب کچھ ان کے ہاتھ سے نکل گیا، نصیحت پکڑنے کا وقت گزر گیا، انھوں نے وہ عمر گزار لی، جس کے اندر نصیحت پکڑی جا سکتی تھی حالانکہ ان کے پاس برے انجام سے ڈرانے والا بھی آیا۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی ترغیب ہے کہ موت کے اچانک آ جانے سے پہلے پہلے، اس کی تیاری کر لینی چاہیے، کیونکہ انسان کی موت ہی اس کے لیے قیامت کی گھڑی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: فهل ينظر هؤلاء المكذِّبون أو ينتظرون {إلاَّ الساعة أن تأتِيَهُم بغتةً}؛ أي: فجأة وهم لا يشعرون، {فقد جاء أشراطُها}؛ أي: علاماتها الدالَّة على قربِها {فأنى لهم إذا جاءتهم ذِكْراهم}؛ أي: من أين لهم إذا جاءتْهم الساعةُ وانقطعتْ آجالهم أن يتذكَّروا ويستعتبوا؛ قد فات ذلك وذهب وقتُ التذكُّر؛ فقد عُمِّروا ما يتذكَّر فيه من تذكَّر وجاءهم النذير. ففي هذا الحثُّ على الاستعداد قبل مفاجأة الموت؛ فإنَّ موت الإنسان قيامُ ساعته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔