تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 30

قَالُوۡا یٰقَوۡمَنَاۤ اِنَّا سَمِعۡنَا کِتٰبًا اُنۡزِلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ یَہۡدِیۡۤ اِلَی الۡحَقِّ وَ اِلٰی طَرِیۡقٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۳۰﴾
انھوں نے کہا اے ہماری قوم! بے شک ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے، وہ حق کی طرف اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ En
کہنے لگے کہ اے قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ جو (کتابیں) اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں ان کی تصدیق کرتی ہے (اور) سچا (دین) اور سیدھا رستہ بتاتی ہے
En
کہنے لگے اے ہماری قوم! ہم نے یقیناً وه کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو سچے دین کی اور راه راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰؔى انھوں نے کہا: اے قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے، جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ یہاں انجیل کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیاکیونکہ حضرت موسی علیہ السلام کی کتاب انجیل کے لیے اصل اور بنی اسرائیل کے لیے احکام شریعت کی بنیاد ہے۔انجیل تو حضرت موسی علیہ السلام کی کتاب کی تکمیل اور بعض احکام میں ترمیم کرتی ہے۔ ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور راہنمائی کرتی ہے۔ یعنی یہ کتاب جو ہم نے سنی ہے ﴿ اِلَى الْحَقِّ حق کی طرف راہ نمائی کرتی ہے، حق سے مراد ہے، ہر مطلوب اور ہر خبر میں راہ صواب۔ ﴿وَاِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ اور سیدھے راستے کی طرف راہ نمائی کرتی ہے جو اللہ تعالی اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔مثلا اللہ تعالی کے بارے میں علم، نیز اس کے احکام دینی اور احکام جزا کا علم۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا يا قومَنا إنَّا سَمِعْنا كتاباً أنزِلَ من بعدِ موسى}: لأنَّ كتاب موسى أصلٌ للإنجيل وعمدةٌ لبني إسرائيل في أحكام الشرع، وإنَّما الإنجيل متمِّم ومكمِّل ومغيِّر لبعض الأحكام، {مصدِّقاً لما بين يديه يَهْدي}: هذا الكتاب الذي سَمِعْناه، {إلى الحقِّ}: وهو الصوابُ في كلِّ مطلوبٍ وخبرٍ، {وإلى طريقٍ مستقيمٍ}: موصل إلى الله وإلى جنَّته من العلم بالله وبأحكامه الدينيَّة وأحكام الجزاء.