اے ہماری قوم !اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرو اور اس پر ایمان لے آؤ، وہ تمھیں تمھارے گناہ معاف کر دے گا اور تمھیں دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔
En
اے قوم! خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔ خدا تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میں رکھے گا
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب وہ قرآن کی مدح و توصیف اور اس کا مقام اور مرتبہ بیان کر چکے تو انھوں نے اپنی قوم کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا: ﴿یٰقَوْمَنَاۤاَجِیْبُوْادَاعِیَاللّٰهِ﴾”اے ہماری قوم! اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول کرو۔“ یعنی جو صرف اپنے رب کی طرف دعوت دیتا ہے وہ اپنی کسی غرض اور کسی لالچ کے لیے تمھیں دعوت نہیں دیتا وہ تو تمھیں صرف تمھارے رب کی طرف بلاتا ہے تاکہ تمھارا رب تمھیں ثواب عطا کرے اور تم سے ہر برائی اور شر کو دور کر دے۔ اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ یَغْفِرْلَكُمْمِّنْذُنُوْبِكُمْوَیُجِرْؔكُمْمِّنْعَذَابٍاَلِیْمٍ﴾” اللہ تمھارے گناہ بخش دے گا اور تمھیں ددناک عذاب سے پناہ میں رکھے گا۔“ جب اس نے انھیں درد ناک عذاب سے نجات دے دی تو اس کے بعد نعمتوں کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔اور یہ اس شخص کے لیے جزا ہے جو اللہ تعالی کے داعی کی دعوت پر لبیک کہتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلمَّا مَدَحوا القرآن وبيَّنوا محلَّه ومرتبته؛ دَعَوْهم إلى الإيمان به، فقالوا: {يا قومَنا أجيبوا داعيَ اللهِ}؛ أي: الذي لا يدعو إلاَّ إلى ربِّه، لا يدعوكم إلى غرض من أغراضِهِ ولا هوى، وإنَّما يدعوكم إلى ربِّكم لِيُثيبَكم، ويزيلَ عنكم كلَّ شرٍّ ومكروه، ولهذا قالوا: {يغفرْ لكم من ذُنوبِكُم ويُجِرْكُم من عذابٍ أليم}: وإذا أجارهم من العذاب الأليم؛ فما ثمَّ بعد ذلك إلاَّ النعيم؛ فهذا جزاءُ من أجاب داعي الله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔