تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 29

وَ اِذۡ صَرَفۡنَاۤ اِلَیۡکَ نَفَرًا مِّنَ الۡجِنِّ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوۡہُ قَالُوۡۤا اَنۡصِتُوۡا ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوۡا اِلٰی قَوۡمِہِمۡ مُّنۡذِرِیۡنَ ﴿۲۹﴾
اور جب ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو تیری طرف پھیرا، جو قرآن غور سے سنتے تھے تو جب وہ اس کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا خاموش ہو جاؤ، پھر جب وہ پورا کیا گیا تو اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر واپس لوٹے۔ En
اور جب ہم نے جنوں میں سے کئی شخص تمہاری طرف متوجہ کئے کہ قرآن سنیں۔ تو جب وہ اس کے پاس آئے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ جب (پڑھنا) تمام ہوا تو اپنی برادری کے لوگوں میں واپس گئے کہ (ان کو) نصیحت کریں
En
اور یاد کرو! جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا کہ وه قرآن سنیں، پس جب (نبی کے) پاس پہنچ گئے تو (ایک دوسرے سے) کہنے لگے خاموش ہو جاؤ، پھر جب پڑھ کر ختم ہوگیا تو اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لئے واپس لوٹ گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالی نے جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام مخلوق،یعنی انسانوں اور جنوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔اس لیے تمام مخلوق کو نبوت و رسالت کی تبلیغ ضروری ہے۔انسانوں کو دعوت دینا اور ان کو برے انجام سے ڈرانا تو آپ کے لیے ممکن ہے۔رہے جنات تو اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے ان کو آپ کی طرف پھیر دیا، اللہ تعالی نے بھیجی ﴿ نَفَرًا مِّنَ الْ٘جِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْ٘قُ٘رْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا آپ کی طرف جنات کی ایک جماعت تاکہ وہ قرآن سنیں جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے خاموش ہو جاؤ یعنی انھوں نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کی تلقین کی۔ ﴿ فَلَمَّا قُ٘ضِیَ جب قرآن پڑھا جا چکا اور انھوں نے اس کو یاد کر لیا اور قرآن نے ان پر اثر کیا ﴿ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ اپنی قوم کی خیرخواہی کرنے اور ان پر حجت قائم کرنے کے لیے اپنی قوم کے پاس گئے۔اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے اور جنات میں آپ کی دعوت کو پھیلانے کے لیے جنات کو مقرر فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

كان الله تعالى قد أرسل رسولَه محمداً - صلى الله عليه وسلم - إلى الخلق إنسهم وجنهم، وكان لا بدَّ من إبلاغ الجميع لدعوة النبوَّة والرسالة؛ فالإنس يمكنه عليه الصلاة والسلام دعوتُهم وإنذارُهم، وأمَّا الجنُّ؛ فصَرَفَهم الله إليه بقدرته وأرسل إليه {نفراً من الجنِّ يستمعونَ القرآن فلمَّا حَضَروه قالوا أنصِتوا}؛ أي: وصَّى بعضُهم بعضاً بذلك، {فلما قُضِيَ}: وقد وَعَوْه وأثَّر ذلك فيهم، {ولَّوْا إلى قومِهِم منذِرين}: نصحاً منهم لهم، وإقامة لحجَّة الله عليهم، وقيَّضهم الله معونةً لرسوله - صلى الله عليه وسلم - في نشر دعوتِهِ في الجنِّ.