تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 26

وَ لَقَدۡ مَکَّنّٰہُمۡ فِیۡمَاۤ اِنۡ مَّکَّنّٰکُمۡ فِیۡہِ وَ جَعَلۡنَا لَہُمۡ سَمۡعًا وَّ اَبۡصَارًا وَّ اَفۡـِٕدَۃً ۫ۖ فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ سَمۡعُہُمۡ وَ لَاۤ اَبۡصَارُہُمۡ وَ لَاۤ اَفۡـِٕدَتُہُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِذۡ کَانُوۡا یَجۡحَدُوۡنَ ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۲۶﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں ان چیزوں میں قدرت دی جن میں ہم نے تمھیں قدرت نہیں دی اور ہم نے ان کے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تو نہ ان کے کان ان کے کسی کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور انھیں اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ En
اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دیئے تھے جو تم لوگوں کو نہیں دیئے اور انہیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے۔ تو جب کہ وہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے تو نہ تو ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آسکے اور نہ آنکھیں اور نہ دل۔ اور جس چیز سے استہزاء کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا
En
اور بالیقین ہم نے (قوم عاد) کو وه مقدور دیئے تھے جو تمہیں تو دیئے بھی نہیں اور ہم نے انہیں کان آنکھیں اور دل بھی دے رکھے تھے۔ لیکن ان کے کانوں اور آنکھوں اور دلوں نے انہیں کچھ بھی نفع نہ پہنچایا جبکہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرنے لگے اور جس چیز کا وه مذاق اڑایا کرتے تھے وہی ان پر الٹ پڑی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس کے باوجود کہ اللہ تعالی نے ان کو بڑی بڑی نعمتوں سے نوازا، انھوں نے اس کا شکر ادا کیا نہ اس کا ذکر، اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدْ مَكَّـنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّـنّٰكُمْ فِیْهِ اور ہم نے ان کو ایسی قدرت سے نوازا جو کہ تمھیں نہیں عطا کی۔ یعنی ہم نے انھیں زمین میں اقتدار و اختیار عطا کیا، وہ زمین کی نعمتیں استعمال کرتے اور اس کی شہوات سے متمتع ہوتے تھے، ہم نے انھیں ایک عمر تک آباد رکھا اس عرصے کے دوران نصیحت حاصل کرنے والے نے نصیحت حاصل کی اور ہدایت یافتہ نے ہدایت پائی۔
اے مخاطبین!ہم نے قوم عاد کو بھی اسی طرح اقتدار و اختیار عطا کیا تھا جیسے تمھیں عطا کیا ہے، اس لیے یہ نہ سمجھو کہ ہم نے تم کو جو اقتدار عطا کیا ہے وہ صرف تمھارے ساتھ مخصوص ہے اور یہ اقتدار تم سے اللہ تعالی کے عذاب کو دور کر دے گا۔بلکہ دوسروں کو تم سے بڑھ کر اقتدار حاصل تھا، مگر اللہ تعالی کے مقابلے میں ان کے مال، اولاد اور لشکر کسی کام نہ آئے۔ ﴿ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـِٕدَةً اور ہم نے انھیں کان، آنکھیں اور دل دیے۔ یعنی ان کی سماعت، ان کی بصارت اور ان کے اذہان میں کسی قسم کی کمی نہ تھی کہ یہ کہا جاتا کہ انھوں نے کم علمی اور علم پر قدرت نہ رکھنے اور عقل میں کسی خلل کی وجہ سے حق کو ترک کیا… مگر توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
﴿ فَمَاۤ اَغْ٘نٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَلَاۤ اَفْـِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ پس ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے دل کچھ کام نہ آئے۔ یعنی تھوڑا یا بہت، کسی کام نہ آئے کیونکہ ﴿ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وہ اللہ تعالی کی آیات کا انکار کرتے تھے جو اللہ تعالی کی توحید اور اکیلے عبادت کا مستحق ہونے پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا، جس کے وقوع کا وہ انکار اور انبیاء و مرسلین کے ساتھ استہزا کیا کرتے تھے جو ان کو اس عذاب سے ڈراتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا مع أنَّ الله قد أدرَّ عليهم النِّعم العظيمة فلم يشكُروه ولا ذكَروه، ولهذا قال: {ولقد مكَّنَّاهم فيما إن مَكَّنَّاكم فيه}؛ أي: مكنَّاهم في الأرض يتناولون طيباتها، ويتمتَّعون بشهواتها، وعمَّرناهم عمراً يتذكَّر فيه من تذكَّر ويتَّعظ فيه المهتدي؛ أي: ولقد مكَّنَّا عاداً كما مكَّنَّاكم يا هؤلاء المخاطبون؛ أي: فلا تحسبوا أنَّ ما مَكَّنَّاكم فيه مختصٌّ بكم، وأنَّه سيدفع عنكم من عذاب الله شيئاً، بل غيرُكم أعظمُ منكم تمكيناً، فلم تُغْنِ عنهم أموالُهم ولا أولادُهم ولا جنودُهم من الله شيئاً، {وجَعَلْنا لهم سمعاً وأبصاراً وأفئدةً}؛ أي: لا قصور في أسماعهم ولا أبصارهم ولا أذهانهم حتى يقال: إنَّهم تركوا الحقَّ جهلاً منهم وعدم تمكُّن من العلم به ولا خلل في عقولهم، ولكنَّ التوفيقَ بيدِ الله، {فما أغنى عنهم سمعُهم ولا أبصارُهم ولا أفئدتُهم من شيءٍ}: لا قليل ولا كثير، وذلك بسبب أنهم يجحدون آيات الله الدَّالَّة على توحيدِهِ وإفرادِهِ بالعبادة، {وحاق بهم ما كانوا به يستهزِئون}؛ أي: نزل بهم العذاب الذي يكذِّبون بوقوعه، ويستهزِئون بالرسل الذين حذَّروهم منه.