تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْـِٕدَةً …:} دوسری جگہ ان کے متعلق فرمایا: «وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ» [العنکبوت: ۳۸] ”حالانکہ وہ بہت سمجھ دار تھے۔“ یعنی ہم نے انھیں سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچ بچار کے لیے دل دیے تھے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو سننے، اس کی نشانیوں کو عبرت کے لیے دیکھنے اور آخرت کی زندگی کے متعلق غور و فکر کے بجائے ان سے اتنا ہی کام لیا جو دنیا کے مال و متاع کے حصول کے لیے مفید ہو۔ دنیا کے کام میں عقل مند تھے، لیکن وہ عقل نہ آئی جس سے آخرت درست ہو، آیاتِ الٰہی سنتے وقت ان کے کان بہرے ہو جاتے تھے اور آیاتِ الٰہی دیکھنے کے لیے ان کی آنکھیں بند ہی رہتی تھیں۔ پھر جب ان پر اللہ کا عذاب آیا تو ان کی عقل مندی ان کے کسی کام نہ آ سکی، کیونکہ وہ اللہ کی آیات تسلیم کرنے سے صاف انکار کیا کرتے تھے۔
➌ { وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ:} یعنی وہ عذاب جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے ہو وہ کب آ رہا ہے، اسی عذاب نے انھیں گھیر لیا اور ایسا گھیرا کہ پھر اس سے نکل نہ سکے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر ارشاد ہوتا ہے اے اہل مکہ تم اپنے آس پاس ہی ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ کس قدر قومیں نیست و نابود کر دی گئی ہیں اور کس طرح انہوں نے اپنے کرتوت کے بدلے پائے ہیں احقاف جو یمن کے پاس ہے حضر موت کے علاقہ میں ہے، یہاں کے بسنے والے عادیوں کے انجام پر نظر ڈالو، تمہارے اور شام کے درمیان ثمودیوں کا جو حشر ہوا اسے دیکھو، اہل یمن اور اہل مدین کی قوم سبا کے نتیجہ پر غور کرو، تم تو اکثر غزوات اور تجارت وغیرہ کے لیے وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو، بحیرہ قوم لوط سے عبرت حاصل کرو وہ بھی تمہارے راستے میں ہی پڑتا ہے پھر فرماتا ہے ہم نے اپنی نشانیوں اور آیتوں سے خوب واضح کر دیا ہے تاکہ لوگ برائیوں سے بھلائیوں کی طرف لوٹ آئیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا مع أنَّ الله قد أدرَّ عليهم النِّعم العظيمة فلم يشكُروه ولا ذكَروه، ولهذا قال: {ولقد مكَّنَّاهم فيما إن مَكَّنَّاكم فيه}؛ أي: مكنَّاهم في الأرض يتناولون طيباتها، ويتمتَّعون بشهواتها، وعمَّرناهم عمراً يتذكَّر فيه من تذكَّر ويتَّعظ فيه المهتدي؛ أي: ولقد مكَّنَّا عاداً كما مكَّنَّاكم يا هؤلاء المخاطبون؛ أي: فلا تحسبوا أنَّ ما مَكَّنَّاكم فيه مختصٌّ بكم، وأنَّه سيدفع عنكم من عذاب الله شيئاً، بل غيرُكم أعظمُ منكم تمكيناً، فلم تُغْنِ عنهم أموالُهم ولا أولادُهم ولا جنودُهم من الله شيئاً، {وجَعَلْنا لهم سمعاً وأبصاراً وأفئدةً}؛ أي: لا قصور في أسماعهم ولا أبصارهم ولا أذهانهم حتى يقال: إنَّهم تركوا الحقَّ جهلاً منهم وعدم تمكُّن من العلم به ولا خلل في عقولهم، ولكنَّ التوفيقَ بيدِ الله، {فما أغنى عنهم سمعُهم ولا أبصارُهم ولا أفئدتُهم من شيءٍ}: لا قليل ولا كثير، وذلك بسبب أنهم يجحدون آيات الله الدَّالَّة على توحيدِهِ وإفرادِهِ بالعبادة، {وحاق بهم ما كانوا به يستهزِئون}؛ أي: نزل بهم العذاب الذي يكذِّبون بوقوعه، ويستهزِئون بالرسل الذين حذَّروهم منه.