تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 27

وَ لَقَدۡ اَہۡلَکۡنَا مَا حَوۡلَکُمۡ مِّنَ الۡقُرٰی وَ صَرَّفۡنَا الۡاٰیٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۷﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھارے اردگرد کی بستیوں کو ہلاک کر دیا اور ہم نے پھیر پھیر کر آیات بیان کیں، شاید وہ لوٹ آئیں۔ En
اور تمہارے اردگرد کی بستیوں کو ہم نے ہلاک کر دیا۔ اور بار بار (اپنی) نشانیاں ظاہر کردیں تاکہ وہ رجوع کریں
En
اور یقیناً ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں تباه کر دیں اور طرح طرح کی ہم نے اپنی نشانیاں بیان کر دیں تاکہ وه رجوع کر لیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالی عرب کے مشرکین اور دیگر مشرکین کو ڈراتا ہے کہ اس نے انبیاء کی تکذیب کرنے والی ان قوموں کو تباہ و برباد کر دیا جو ان مشرکین کے اردگرد آباد تھیں بلکہ ان میں سے بہت سی قومیں تو جزیرۃ العرب میں آباد تھیں، مثلاً: عاد اور ثمود وغیرہ، اللہ تعالی نے ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں، یعنی انھیں ہر نوع کی نشانیاں پیش کیں۔ ﴿ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ یعنی شاید کہ وہ اپنے کفر اور تکذیب کے رویے سے باز آجائیں۔ جب وہ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالی نے ان کو اس طرح پکڑا جس طرح زبردست اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے، ان کے ان خداؤ ں نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا جن کو وہ اللہ کے بغیر پکارا کرتے تھے۔اس لیے یہاں فرمایا: ﴿ فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّؔخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُ٘رْبَ٘انًا اٰلِهَةً لہٰذا ان لوگوں نے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا تقرب کا ذریعہ بنایا گیا، ان کی مدد کیوں نہ کی۔ یعنی ان کا تقرب حاصل کرتے اور ان سے فائدے کی امید پر ان کی عبادت کرتے تھے ﴿ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ بلکہ ان کے معبودوں نے ان کی پکار کا کوئی جواب دیا نہ عذاب کو ان سے دور کر سکے۔ ﴿ وَذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ یعنی وہ جھوٹ گھڑا کرتے تھے، جس کی بنا پر وہ سمجھتے تھے کہ وہ حق پر ہیں اور ان کے اعمال ان کو فائدہ دیں گے، مگر وہ اعمال بے کار اور باطل ہو گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يحذِّر تعالى مشركي العرب وغيرهم بإهلاك الأمم المكذِّبين الذين هم حول ديارهم، بل كثيرٌ منهم في جزيرة العرب؛ كعادٍ وثمودَ ونحوهم، وأنَّ الله تعالى صَرَّفَ لهم {الآياتِ}؛ أي: نوَّعها من كل وجه، {لعلهم يرجِعونَ}: عمَّا هم عليه من الكفر والتكذيب، فلمَّا لم يؤمنوا؛ أخذهم اللهُ أخذَ عزيزٍ مقتدرٍ، ولم تنفعْهم آلهتُهم التي يَدْعون من دون الله من شيءٍ، ولهذا قال هنا: {فلولا نَصَرَهُم الذين اتَّخذوا من دون الله قُرباناً آلهةً}؛ أي: يتقرَّبون إليهم ويتألَّهونهم لرجاء نفعهم. {بل ضلُّوا عنهم}: فلم يُجيبوهم ولا دَفَعوا عنهم، {وذلك إفْكُهُمْ وما كانوا يفترونَ}: من الكذب الذي يُمَنُّون به أنفسَهم؛ حيث يزعُمون أنَّهم على الحقِّ، وأنَّ أعمالهم ستنفعُهم، فضلَّت وبطلت.