تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 21

وَ اذۡکُرۡ اَخَا عَادٍ ؕ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَہٗ بِالۡاَحۡقَافِ وَ قَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖۤ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۲۱﴾
اور عاد کے بھائی کو یاد کر جب اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا، جب کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد کئی ڈرانے والے گزر چکے کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، بے شک میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ En
اور (قوم) عاد کے بھائی (ہود) کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین احقاف میں ہدایت کی اور ان سے پہلے اور پیچھے بھی ہدایت کرنے والے گزرچکے تھے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے
En
اور عاد کے بھائی کو یاد کرو، جبکہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا اور یقیناً اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں اور اس کے بعد بھی یہ کہ تم سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی عبادت نہ کرو، بیشک میں تم پر بڑے دن کے عذاب سے خوف کھاتا ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاذْكُرْ یعنی ثنائے جمیل کے ساتھ ذکر کر ﴿ اَخَا عَادٍ قوم عاد کے بھائی اس سے مراد ہود علیہ السلام ہیں کیونکہ ان کا شمار ان مرسلین کرام میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالی نے، اپنے دین کی طرف دعوت اور اس کی طرف مخلوق کی راہ نمائی کی وجہ سے فضیلت دی ﴿ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ جب انھوں نے اپنی قوم کو ڈرایا۔ اور وہ تھے قوم عاد ﴿ بِالْاَحْقَافِ یعنی ان کے وہ گھر جو وادی احقاف میں معروف ہیں۔ احقاف سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں جو ارض یمن میں واقع ہیں۔ ﴿وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖۤ یعنی حضرت ہود ان میں سے کوئی انوکھے نبی نہ تھے اور نہ گزشتہ انبیاء کی مخالفت کرنے والے تھے۔ ان سے پہلے بھی بہت سے ہدایت کرنے والے گزرے ہیں۔
حضرت ہود علیہ السلام نے ان کو یہ کہتے ہوئے ڈرایا ﴿ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ یعنی ان کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا جو راست گوئی اور قابل ستائش عمل کی جامع ہے، انھیں شرک اور خدا سازی سے منع کیا اور انھیں اس بات سے ڈرایا کہ اگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی تو ان پر سخت عذاب نازل ہو گا، مگر اس دعوت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {واذكر}: بالثناء الجميل {أخا عادٍ}: وهو هودٌ عليه السلام، حيث كان من الرسل الكرام، الذين فضَّلهم الله تعالى بالدَّعوة إلى دينه وإرشاد الخلق إليه، {إذْ أنذر قومَه}: وهم عادٌ {بالأحقافِ}؛ أي: في منازلهم المعروفة بالأحقاف، وهي الرمال الكثيرة في أرض اليمن، {وقد خَلَتِ النُّذُر من بين يديه ومن خلفِهِ}: فلم يكن بدعاً منهم ولا مخالفاً لهم، قائلاً لهم: {أن لا تعبُدوا إلاَّ الله إنِّي أخافُ عليكم عذابَ يوم عظيم}: فأمرهم بعبادة الله الجامعة لكلِّ قول سديدٍ وعمل حميدٍ، ونهاهم عن الشِّرْكِ والتَّنديد، وخوفهم إنْ لم يطيعوه العذابَ الشَّديد، فلم تُفِدْ فيهم تلك الدعوة.