تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 22

قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَاۡفِکَنَا عَنۡ اٰلِہَتِنَا ۚ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۲۲﴾
انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے ہٹا دے، سو ہم پر وہ( عذاب) لے آ جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے، اگر تو سچوں سے ہے۔ En
کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو۔ اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے ہم پر لے آؤ
En
قوم نے جواب دیا، کیا آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اپنے معبودوں (کی پرستش) سے باز رکھیں؟ پس اگر آپ سچے ہیں تو جس عذاب کا آپ وعده کرتے ہیں اسے ہم پر ﻻ ڈالیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا یعنی تیرے سامنے کوئی مقصد ہے نہ تیرے پاس حق ہے، سوائے اس کے کہ تو ہمارے معبودوں کے ساتھ حسد رکھتا ہے اور تو ہمیں، ہمارے معبودوں سے پھیرنا چاہتا ہے ﴿فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰؔدِقِیْنَ پس اگر تم سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر لے آؤ۔ یہ جہالت اور عناد کی انتہا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فَـ {قَالوا أجئتنا لِتأفِكَنا عن آلهتنا}؛ أي: ليس لك من القصد ولا معك من الحقِّ إلاَّ أنك حِدتنا على آلهتنا، فأردتَ أن تصرِفَنا عنها، {فأتِنا بما تَعِدُنا إن كنتَ من الصادقين}: وهذا غاية الجهل والعناد.