تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 20

وَ یَوۡمَ یُعۡرَضُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَلَی النَّارِ ؕ اَذۡہَبۡتُمۡ طَیِّبٰتِکُمۡ فِیۡ حَیَاتِکُمُ الدُّنۡیَا وَ اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِہَا ۚ فَالۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡہُوۡنِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ ﴿٪۲۰﴾
اور جس دن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، آگ پر پیش کیے جائیں گے، تم اپنی نیکیاں اپنی دنیا کی زندگی میں لے جا چکے اور تم ان سے فائدہ اٹھا چکے، سو آج تمھیں ذلت کے عذاب کا بدلہ دیا جائے گا، اس لیے کہ تم زمین میں کسی حق کے بغیر تکبر کرتے تھے اور اس لیے کہ تم نافرمانی کیا کرتے تھے۔ En
اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے (تو کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے، (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے۔ اور اس کی بدکرداری کرتے تھے
En
اور جس دن کافر جہنم کے سرے پر ﻻئے جائیں گے (کہا جائے گا) تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کر دیں اور ان سے فائدے اٹھا چکے، پس آج تمہیں ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی، اس باعﺚ کہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس باعﺚ بھی کہ تم حکم عدولی کیا کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالی کفار کا حال بیان کرتا ہے، جب ان کو جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا اور زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰؔتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے۔ کیونکہ تم دنیا پر مطمئن ہو گئے، اس کی لذتوں کے دھوکے میں مبتلا ہو گئے، اس کی شہوات کو پسند کر لیا اور اس کی طیبات نے تمھیں آخرت کی کوششوں سے غافل کر دیا ﴿ وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا اور ان سے متمتع ہوچکے۔ جیسے چراگاہ میں چرنے کے لیے چھوڑے ہوئے مویشی فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ تمھاری آخرت میں سے تمھارا حصہ ہے ﴿ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ یعنی آج تمھیں سخت عذاب دیا جائے گا جو تمھیں رسوا کر کے رکھ دے گا۔ اور یہ اس سبب سے ہے جو تم اللہ پر ناحق بات کہاکیا کرتے تھے، یعنی گمراہی کی طرف لے جانے والے جس راستے پر تم گامزن تھے تم اسے اللہ تعالی اور اس کے حکم کی طرف منسوب کرتے تھے۔ حالانکہ تم اس بارے میں جھوٹے تھے۔
﴿ وَبِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ یعنی تم تکبر کرتے تھے اور اللہ تعالی کی اطاعت کے دائرہ سے نکل گئے تھے۔پس انھوں نے قول باطل، عمل باطل، اللہ تعالی پر اس کی رضا کے بارے میں جھوٹ، حق کے بارے میں قدح اور حق کے بارے میں تکبر کو جمع کیا، اس لیے ان کو سخت سزا دی گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يذكر تعالى حال الكفار عند عرضهم على النار حين يُوَبَّخون ويُقَرَّعون، فيقال لهم: {أذهبتم طيباتِكُم في حياتكم الدُّنيا}؛ حيث اطمأننتم إلى الدُّنيا، واغتررتم بلذَّاتها، ورضيتم بشهواتها، وألهتكم طيِّباتُها عن السعي لآخرتكم، وتمتَّعتم تمتُّع الأنعام السارحة؛ فهي حظُّكم من آخرتكم. {فاليوم تُجْزَوْنَ عذاب الهون}؛ أي: العذاب الشديد الذي يهينكم، ويفضحكم [بما كنتُم تقولون على الله غير الحقِّ] ؛ أي: تنسبون الطريق الضالَّة التي أنتم عليها إلى الله وإلى حكمِهِ وأنتم كَذَبة في ذلك، {وبما كنتُم تفسُقونَ}؛ أي: تتكبَّرون عن طاعته، فجمعوا بين قول الباطل والعمل بالباطل والكذب على الله بنسبته إلى رضاه والقدح في الحقِّ والاستكبار عنه، فعوقبوا أشدَّ العقوبة.