تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 36

فَلِلّٰہِ الۡحَمۡدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۳۶﴾
پس اللہ ہی کے لیے سب تعریف ہے جو آسمانوں کا رب اور زمین کا رب، تمام جہانوں کا رب ہے۔ En
پس خدا ہی کو ہر طرح کی تعریف (سزاوار) ہے جو آسمانوں کا مالک اور زمین کا مالک اور تمام جہان کا پروردگار ہے
En
پس اللہ کی تعریف ہے جو آسمانوں اور زمین اور تمام جہان کا پالنہار ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ پس اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے۔ جیسی کہ اس کے جلال اور اس کی عظمت سلطان کے لائق ہے۔ ﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔ یعنی تمام مخلوقات کی ربوبیت کے بارے میں وہ لائق حمدوثنا ہے کہ اس نے ان کو تخلیق کیا ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلله الحمدُ}: كما ينبغي لجلال وجهه وعظيم سلطانه، {ربِّ السمواتِ وربِّ الأرض ربِّ العالمين}؛ أي: له الحمد على ربوبيته لسائر الخلق ؛ حيث خلقهم وربَّاهم، وأنعم عليهم بالنعم الظاهرة والباطنة.