یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنا لیا اور تمھیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا، سو آج نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔
En
یہ اس لئے کہ تم نے خدا کی آیتوں کو مخول بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی
یہ اس لیے ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی ہنسی اڑائی تھی اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا، پس آج کے دن نہ تو یہ (دوزخ) سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے عذر و معذرت قبول کیا جائے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ذٰلِكُمْ ﴾ یہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ ﴿ اتَّؔخَذْتُمْاٰیٰتِاللّٰهِهُزُوًا﴾”تم نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا۔“حالانکہ یہ جدوجہد کی موجب تھیں نیز اس امر کی موجب تھیں کہ ان کو مسرت، خوش دلی اور فرحت سے قبول کیا جاتا۔ ﴿وَّغَرَّتْكُمُالْحَیٰوةُالدُّنْیَا﴾ اور دنیا نے اپنی چکا چوند اور اپنی لذات و شہوات کے ذریعے سے تمھیں دھوکے میں ڈال دیا، پس تم اس سے مطمئن ہو گئے، اس کے لیے عمل کرتے رہے اور ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کے لیے عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ ﴿فَالْیَوْمَلَایُخْرَجُوْنَمِنْهَاوَلَاهُمْیُسْتَعْتَبُوْنَ۠ ﴾”پس آج وہ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔“ یعنی انھیں مہلت دی جائے گی نہ انھیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے گا کہ وہ نیک عمل کر لیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ذلكم}: الذي حصل لكم من العذاب. بسبب {أنَّكم اتَّخذتم آياتِ الله هزواً}: مع أنها موجبةٌ للجدِّ والاجتهاد وتلقِّيها بالسرور والاستبشار والفرح، {وغرَّتْكُم الحياة الدُّنيا}: بزخارفها ولذَّاتها وشهواتها، فاطمأننتُم إليها، وعملتم لها، وتركتم العمل للدار الباقية. {فاليومَ لا يُخْرَجونَ منها ولا هم يُسْتَعْتَبونَ}؛ أي: ولا يُمْهَلون ولا يردُّون إلى الدُّنيا ليعملوا صالحاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔