تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 37

وَ لَہُ الۡکِبۡرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۪ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۳۷﴾
اور اسی کے لیے آسمانوں اور زمین میں سب بڑائی ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور آسمانوں اور زمین میں اُسی کے لئے بڑائی ہے۔ اور وہ غالب اور دانا ہے
En
تمام (بزرگی اور) بڑائی آسمانوں اور زمین میں اسی کی ہے اور وہی غالب اور حکمت واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے بڑائی ہے۔ یعنی وہی جلال، عظمت اور مجد کا مالک ہے۔
پس حمد میں صفات کمال کے ذریعے سے اللہ کی ثنا، اس کی محبت اور اس کا اکرام ہے اور کبریائی میں اس کی عظمت اور اس کا جلال ہے۔ عبادت دو ارکان پر مبنی ہے: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے سامنے اظہار تذلل اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ ﴿وَهُوَ الْ٘عَزِیْزُ اور وہ ہر چیز پر غالب ہے ﴿الْحَكِیْمُ حکمت والا ہے۔ جس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ اس نے جو چیز بھی مشروع کی، وہ حکمت کے تحت مشروع کی ہے اور جو چیز بھی پیدا کی وہ فائدے اور منفعت کے لیے پیدا کی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وله الكبرياءُ في السمواتِ والأرض}؛ أي: له الجلال والعظمة والمجدُ؛ فالحمد فيه الثناء على الله بصفات الكمال ومحبَّته تعالى وإكرامه، والكبرياء فيها عظمتُه وجلالُه، والعبادة مبنيَّة على ركنين: محبة الله والذُّلُّ له، وهما ناشئان عن العلم بمحامد الله وجلاله وكبريائه، {وهو العزيز}: القاهر لكلِّ شيء. {الحكيم}: الذي يضعُ الأشياء مواضِعَها؛ فلا يشرع ما يشرعُه إلاَّ لحكمة ومصلحة، ولا يخلُقُ ما يخلُقُه إلاَّ لفائدةٍ ومنفعةٍ.