تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 34

وَ قِیۡلَ الۡیَوۡمَ نَنۡسٰکُمۡ کَمَا نَسِیۡتُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا وَ مَاۡوٰىکُمُ النَّارُ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۳۴﴾
اورکہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمھیں بھلا دیں گے جیسے تم نے اپنے اس دن کے ملنے کو بھلادیا اور تمھارا ٹھکانا آگ ہے اور تمھارے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔ En
اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا۔ اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں
En
اور کہہ دیا گیا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیں گے جیسے کہ تم نے اپنے اس دن سے ملنے کو بھلا دیا تھا تمہارا ٹھکانا جہنم ہے اور تمہارا مددگار کوئی نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ اور کہا جائے گا: آج ہم تمھیں بھلا دیں گے۔ یعنی ہم تمھیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ ﴿كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ ﴿وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ﴿وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰ٘صِرِیْنَ اور تمھارا کوئی مددگار نہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقيل اليوم ننساكم}؛ أي: نترككم في العذاب {كما نسيتُم لقاء يومكم هذا}؛ فإنَّ الجزاء من جنس العمل، {ومأواكم النارُ}؛ أي: هي مقرُّكم ومصيركم. {وما لكم من ناصرينَ}: ينصرونَكم من عذابِ الله ويدفعون عنكم عقابه.