تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقِیْلَالْیَوْمَنَنْسٰىكُمْ ﴾”اور کہا جائے گا: آج ہم تمھیں بھلا دیں گے۔“ یعنی ہم تمھیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ ﴿كَمَانَسِیْتُمْلِقَآءَیَوْمِكُمْ﴾”جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔“ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ ﴿وَمَاْوٰىكُمُالنَّارُ ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ﴿وَمَالَكُمْمِّنْنّٰ٘صِرِیْنَ ﴾”اور تمھارا کوئی مددگار نہیں۔“ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقيل اليوم ننساكم}؛ أي: نترككم في العذاب {كما نسيتُم لقاء يومكم هذا}؛ فإنَّ الجزاء من جنس العمل، {ومأواكم النارُ}؛ أي: هي مقرُّكم ومصيركم. {وما لكم من ناصرينَ}: ينصرونَكم من عذابِ الله ويدفعون عنكم عقابه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔