تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 33

وَ بَدَا لَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۳۳﴾
اور ان کے لیے ان اعمال کی برائیاں ظاہر ہو جائیں گی جو انھوں نے کیے اور انھیں وہ چیز گھیر لے گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ En
اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اُڑاتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا
En
اور ان پر اپنے اعمال کی برائیاں کھل گئیں اور جس کا وه مذاق اڑا رہے تھے اس نے انہیں گھیر لیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَبَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے ان کے اعمال کی سزا ظاہر ہوگی۔ ﴿وَحَاقَ بِهِمْ اور نازل ہوگا ان پر ﴿مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جس کے واقع ہونے اور اس کے وقوع کی خبر دینے والے کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال تعالى: {وبدا لهم سيئاتُ ما عملوا}؛ أي: وظهر لهم يوم القيامةِ عقوباتُ أعمالهم، {وحاق بهم}؛ أي: نزل {ما كانوا به يستهزِئون}؛ أي: نزل بهم العذابُ الذي كانوا في الدُّنيا يستهزئون بوقوعه وبمن جاء به.