اور جب کہا جاتا تھا کہ یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے اور جو قیامت ہے اس میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے، ہم تو محض معمولی سا گمان کرتے ہیں اور ہم ہرگز پورا یقین کرنے والے نہیں۔
En
اور جب کہا جاتا تھا کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا
اور جب کبھی کہا جاتا کہ اللہ کا وعده یقیناً سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم جواب دیتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے؟ ہمیں کچھ یوں ہی سا خیال ہوجاتا ہے لیکن ہمیں یقین نہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
نیز انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے یہ بھی کہا جائے گا: ﴿وَاِذَاقِیْلَاِنَّوَعْدَاللّٰهِحَقٌّوَّالسَّاعَةُلَارَیْبَفِیْهَاقُلْتُمْ ﴾”اور جب کہا جاتاتھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے۔“ اس کا انکار کرتے ہوئے:﴿مَّانَدْرِیْمَاالسَّاعَةُ١ۙاِنْنَّ٘ظُ٘نُّاِلَّاظَنًّاوَّمَانَحْنُبِمُسْتَیْقِنِیْنَ﴾”ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کی گھڑی کیا ہوتی ہے، بس ہمیں تو صرف ایک گمان سا ہے اور ہمیں اس پر یقین نہیں ہے۔“ یہ تو تھا ان کا دنیا میں حال اور قیامت کے احوال کے وہ منکر تھے اور جو حیات بعدالموت کی خبر لایا، انھوں نے اس کے قول کو ٹھکرا دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ويوبَّخون أيضاً بقوله: {وإذا قيل إنَّ وعدَ الله حقٌّ والساعة لا ريبَ فيها قلتم}: منكرين لذلك: {ما ندري ما الساعة إن نظنُّ إلاَّ ظنًّا وما نحن بمستيقنينَ}: فهذه حالهم في الدُّنيا، وحال البعث الإنكار له، وردُّوا قولَ مَنْ جاء به.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔