تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 31

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۟ اَفَلَمۡ تَکُنۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَاسۡتَکۡبَرۡتُمۡ وَ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾
اور رہے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو کیا میری آیات تمھارے سامنے نہ پڑھی جاتی تھیں؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔ En
اور جنہوں نے کفر کیا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے
En
لیکن جن لوگوں نے کفر کیا تو (میں ان سے کہوں گا) کیا میری آیتیں تمہیں سنائی نہیں جاتی تھیں؟ پھر بھی تم تکبر کرتے رہے اور تم تھے ہی گنہ گار لوگ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو انھیں زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿اَفَلَمْ تَكُ٘نْ اٰیٰتِیْ تُ٘تْ٘لٰى عَلَیْكُمْ کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟ ان آیات نے ان امور کی طرف راہنمائی کی جن میں تمھاری بھلائی تھی اور ان امور سے روکا جن میں تمھارے لیے ضرر تھا، یہ سب سے بڑی نعمت تھی جو تم تک پہنچی اگر تم نے ان کی موافقت کی ہوتی لیکن تم نے تکبر کے ساتھ ان سے روگردانی کی اور ان کا انکار کیا، پس اس طرح تم نے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا آج تمھیں تمھارے کرتوتوں کی سزا دی جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأمَّا الذين كفروا}: بالله، فيقال لهم توبيخاً وتقريعاً: {أفلم تكن آياتي تُتْلى عليكم}، وقد دلَّتكم على ما فيه صلاحكم ونهتْكم عما فيه ضررُكم، وهي أكبر نعمة وصلت إليكم لو وفِّقتم لها، ولكن استكبرتُم عنها وأعرضتُم وكفرتُم بها، فجنيتُم أكبر جناية، وأجرمتم أشدَّ الجرم؛ فاليوم تجزون ما كنتم تعملون.