تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 30

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدۡخِلُہُمۡ رَبُّہُمۡ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۳۰﴾
پھر جو لوگ تو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے سو انھیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا، یہی واضح کامیابی ہے۔ En
تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کا پروردگار انہیں رحمت (کے باغ) میں داخل کرے گا۔ یہی صریح کامیابی ہے
En
پس لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کیے تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت تلے لے لے گا، یہی صریح کامیابی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ دونوں گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا، چنانچہ فرمایا: ﴿فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے اور اعمال صالح یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی ﴿فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ جس کا مقام جنت ہے اور اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور تکدر سے پاک زندگی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ یہی واضح کامیابی، نجات، نفع اور فلاح ہے جو بندے کو جب حاصل ہو تو اسے ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے اور اس سے ہر برائی دور ہو جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا فصَّل ما يفعل الله بالفريقين، فقال: {فأمَّا الذين آمنوا وعملوا الصالحات}: إيماناً صحيحاً، وصدَّقوا إيمانَهم بالأعمال الصالحة من واجبات ومستحبَّات، {فيدخِلُهم ربُّهم في رحمتِهِ}: التي محلُّها الجنة، وما فيها من النعيم المقيم والعيش السليم. {ذلك هو الفوزُ المبينُ}؛ أي: المفاز والنجاة والربح والفلاح الواضح البيِّن، الذي إذا حصل للعبد؛ حصل له كلُّ خير، واندفع عنه كلُّ شرٍّ.