اور انھوں نے کہا ہماری اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی(زندگی) نہیں، ہم (یہیں) جیتے اور مرتے ہیں اور ہمیں زمانے کے سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا، حالا نکہ انھیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں، وہ محض گمان کر رہے ہیں۔
En
اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے۔ اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ صرف ظن سے کام لیتے ہیں
کیا اب بھی تم نصیحت نہیں پکڑتے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہی ہے۔ ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی مار ڈالتا ہے، (دراصل) انہیں اس کا کچھ علم ہی نہیں۔ یہ تو صرف (قیاس اور) اٹکل سے ہی کام لے رہے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقَالُوْا ﴾ یعنی منکرین آخرت کہتے ہیں: ﴿مَاهِیَاِلَّاحَیَاتُنَاالدُّنْیَانَمُوْتُوَنَحْیَاوَمَایُهْلِكُنَاۤاِلَّاالدَّهْرُ ﴾ یہ تو سب صرف عادات ہیں اور گردش لیل و نہار کے ساتھ جاری ہیں کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ جنم لیتے ہیں، جو کوئی مر جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر نہیں جاتا اور نہ اس کو اس کے عمل کی جزا و سزا ہی دی جائے گی۔ ان کا یہ قول بغیر کسی علم کے صادر ہوا ہے۔ ﴿اِنْهُمْاِلَّایَظُنُّوْنَ ﴾ پس انھوں نے معاد کا انکار کیا اور کسی دلیل و برہان کے بغیر سچے رسولوں کی تکذیب کی۔ یہ محض وہم و گمان اور ایسے استبعادات ہیں جو حقیقت سے خالی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقالوا}؛ أي: منكرو البعث: {ما هي إلاَّ حياتُنا الدُّنيا نموت ونحيا وما يُهْلِكُنا إلاَّ الدَّهر}: إن هي إلاَّ عاداتٌ وجريٌ على رسوم الليل والنهار، يموت أناس ويحيا أناس، وما مات؛ فليس براجع إلى الله ولا مجازيه بعمله. وقولهم هذا صادرٌ عن غير علم، {إنْ هم إلاَّ يظنُّون}: فأنكروا المعاد، وكذبوا الرسل الصادقين من غير دليل دلَّهم ولا برهان، إنْ هي إلاَّ ظنون واستبعاداتٌ خالية عن الحقيقة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔