اور جب ان کے سامنے ہماری واضح اور روشن آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے، تو ان کے پاس اس قول کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو ﻻؤ
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بنابریں فرمایا: ﴿وَاِذَاتُ٘تْ٘لٰىعَلَیْهِمْاٰیٰتُنَابَیِّنٰتٍمَّاكَانَحُجَّتَهُمْاِلَّاۤاَنْقَالُواائْتُوْابِاٰبَآىِٕنَاۤاِنْكُنْتُمْصٰؔدِقِیْنَ ﴾”اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو اس کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ کہہ دیتے ہیں: اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباؤ اجداد کو اٹھالاؤ۔“یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ مطالبہ کیا اور اس زعم باطل میں مبتلا ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی صداقت اس بات پر موقوف ہے کہ ان کے آباء و اجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لایا جائے، انبیاء و رسل ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں وہ ہرگز نہیں مانیں گے جب تک کہ رسول ان کا وہ مطالبہ پورا نہیں کرتے جو انھوں نے پیش کیا ہے۔
وہ اپنے قول میں سخت جھوٹے ہیں ان کا مقصد بیان حق نہیں بلکہ صرف رسولوں کی دعوت کو ٹھکرانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال تعالى: {وإذا تُتلى عليهم آياتُنا بيِّناتٍ ما كان حجَّتَهم إلاَّ أن قالوا ائتوا بآبائنا إن كنتُم صادقين}: وهذا جراءة منهم على الله؛ حيث اقترحوا هذا الاقتراح، وزعموا أنَّ صدق رسل الله متوقِّف على الإتيان بآبائهم، وإنَّهم لو جاؤوهم بكلِّ آيةٍ؛ لم يؤمنوا؛ إلاَّ إن اتَّبعتهم الرسل على ما قالوا، وهم كَذَبَةٌ فيما قالوا، وإنما قصدُهم دفع دعوة الرسل، لا بيانُ الحق.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔