پھر کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو بنا لیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔ پھر اللہ کے بعد اسے کون ہدایت دے، تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
En
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب خدا کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟
کیا آپ نے اسے بھی دیکھا؟ جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور باوجود سمجھ بوجھ کے اللہ نے اسے گمراه کردیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی ہے اور اس کی آنکھ پر بھی پرده ڈال دیا ہے، اب ایسے شخص کو اللہ کے بعد کون ہدایت دے سکتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَفَرَءَیْتَ ﴾ کیا آپ نے اس گمراہ شخص کو دیکھا ﴿مَنِاتَّؔخَذَاِلٰهَهٗهَوٰىهُ ﴾”جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا“ جس راستے پر چاہا، چلتا رہا، خواہ اس راستے پر چلنے کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے یا اس کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ ﴿وَاَضَلَّهُاللّٰهُعَلٰىعِلْمٍ ﴾ اللہ تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے اسے گمراہی میں پھینک دیا کہ وہ ہدایت کے لائق نہیں اور نہ ہدایت کے ذریعے سے وہ پاک ہی ہو سکتا ہے۔ ﴿وَّخَتَمَعَلٰىسَمْعِهٖ ﴾”اور اس کے کانوں پر مہر لگادی۔“ اس لیے وہ کوئی ایسی چیز نہیں سن سکتا جو اس کے لیے فائدہ مند ہو ﴿وَقَلْبِهٖ﴾”اور اس کے دل پر۔“ پس وہ بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتا ﴿وَجَعَلَعَلٰىبَصَرِهٖغِشٰوَةً ﴾”اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔“ جو اسے حق دیکھنے سے روکتا ہے ﴿فَ٘مَنْیَّهْدِیْهِمِنْۢبَعْدِاللّٰهِ ﴾”پس کون ہے جو اس کو اللہ کے بعد ہدایت دے؟“ اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کر دیے اور گمراہی کے دروازے کھول دیے، کوئی شخص اس کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرسکتا۔
اللہ تعالیٰ نے اس پر ظلم نہیں کیا بلکہ اس نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا، اس نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مانع تھے۔ ﴿اَفَلَاتَذَكَّـرُوْنَ ﴾”کیا تم (اس چیز سے) نصیحت نہیں پکڑتے۔“ جو تمھیں فائدہ دے اور تم اسے اختیار کرتے اور جو چیز تمھیں نقصان دے تم اس سے اجتناب کرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {أفرأيتَ}: الرجل الضالَّ الذي، {اتَّخذ إلهه هواهُ}: فما هَوِيَهُ سلكه؛ سواء كان يُرْضي الله أم يسخطه، {وأضلَّه الله على علم}: من الله [تعالى] أنَّه لا تَليق به الهداية. ولا يزكو عليها، {وخَتَمَ على سمعِهِ}: فلا يسمع ما ينفعُه، {وقلبِهِ}: فلا يعي الخير، {وجَعَلَ على بصرِهِ غشاوةً}: تمنعُه من نظر الحقِّ. {فمن يهديه من بعد الله}؛ أي: لا أحد يهديه، وقد سدَّ الله عليه أبوابَ الهداية، وفتح له أبواب الغِواية، وما ظلمه الله، ولكن هو الذي ظلم نفسه، وتسبَّب لمنع رحمة الله عليه. {أفلا تذكَّرون}: ما ينفعكم فتسلكونه وما يضرُّكم فتجتنبونه؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔