تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 18

ثُمَّ جَعَلۡنٰکَ عَلٰی شَرِیۡعَۃٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ فَاتَّبِعۡہَا وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸﴾
پھر ہم نے تجھے (دین کے) معاملے میں ایک واضح راستے پر لگا دیا، سو اسی پر چل اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چل جو نہیں جانتے۔ En
پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر (قائم) کر دیا تو اسی (رستے) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا
En
پھر ہم نے آپ کو دین کی (ﻇاہر) راه پر قائم کردیا، سو آپ اسی پر لگے رہیں اور نادانوں کی خواہشوں کی پیروی میں نہ پڑیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہم نے آپ کے لیے ایک شریعت کامل کو مشروع کیا جو ہمارے حکم شرعی سے، ہر بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور ہر برائی سے روکتی ہے۔ ﴿فَاتَّبِعْهَا پس اس کی اتباع کرو۔ کیونکہ اس کی اتباع میں ابدی سعادت، صلاح اور فلاح ہے۔ ﴿وَلَا تَ٘تَّ٘بِـعْ اَهْوَآءَؔ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ اور ان لو گوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو علم نہیں رکھتے۔ یعنی وہ لوگ جن کی خواہشات علم کے تابع ہیں نہ علم کی پیروی کرتی ہیں۔ ہر وہ شخص جس کی خواہش اور ارادہ شریعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے تو ان کی خواہشات ان لوگوں کی خواہشات کے زمرے میں آتی ہیں جو علم سے بے بہرہ ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ثمَّ شرعنا لك شريعةً كاملةً تدعو إلى كلِّ خير، وتنهى عن كل شرٍّ من أمرنا الشرعيِّ، {فاتَّبِعْها}؛ فإنَّ في اتِّباعها السعادة الأبديَّة والصلاح والفلاح، {ولا تتَّبِعْ أهواء الذين لا يعلمونَ}؛ أي: الذين تكون أهويتُهم غيرَ تابعةٍ للعلم ولا ماشيةٍ خلفه، وهم كلُّ من خالف شريعةَ الرسول - صلى الله عليه وسلم - هواه وإرادتُه؛ فإنَّه من أهواء الذين لا يعلمون.