(یاد رکھیں) کہ یہ لوگ ہرگز اللہ کے سامنے آپ کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ (سمجھ لیں کہ) ﻇالم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہوتے ہیں اور پرہیزگاروں کا کارساز اللہ تعالیٰ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنَّهُمْلَ٘نْیُّغْنُوْاعَنْكَمِنَاللّٰهِشَیْـًٔؔا ﴾ یعنی اگر تو ان کی خواہشات نفس کی پیروی کرے تو یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تجھے کوئی فائدہ نہ دے سکیں گے کہ تجھے کوئی بھلائی حاصل ہو یا تجھ سے کوئی برائی دور ہو۔ تیرے لیے درست نہیں کہ تو ان کی موافقت کرے اور ان سے موالات رکھے، کیونکہ آپ اور وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُوَلِیُّالْمُتَّقِیْنَ ﴾”اور اللہ متقیوں کا دوست ہے۔“ اللہ تعالیٰ متقین کو ان کے تقویٰ اور نیک عمل کے سبب سے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّهم لن يُغنوا عنك من اللهِ شيئاً}؛ أي: لا ينفعونك عند الله، فيحصِّلوا لك الخير، ويدفعوا عنك الشرَّ إنِ اتَّبعتهم على أهوائهم، ولا تصلُحُ أن توافِقَهم وتوالِيَهم؛ فإنَّك وإياهم متباينون، وبعضهم وليٌّ لبعض. {والله وليُّ المتَّقين}: يخرجهم من الظلمات إلى النور بسبب تقواهم وعملهم بطاعته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔