تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 17

وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ ۚ فَمَا اخۡتَلَفُوۡۤا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ۙ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۷﴾
اور انھیں (دین کے) معاملے میں واضح احکام عطا کیے، پھر انھوںنے اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آگیا، آپس میں ضد کی وجہ سے،بے شک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ En
اور ان کو دین کے بارے میں دلیلیں عطا کیں۔ تو انہوں نے جو اختلاف کیا تو علم آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے کیا۔ بےشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے فیصلہ کرے گا
En
اور ہم نے انہیں دین کی صاف صاف دلیلیں دیں، پھر انہوں نے اپنے پاس علم کے پہنچ جانے کے بعد آپس کی ضد بحﺚ سے ہی اختلاف برپا کر ڈاﻻ، یہ جن جن چیزوں میں اختلاف کر رہے ہیں ان کا فیصلہ قیامت والے دن ان کے درمیان (خود) تیرا رب کرے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاٰتَیْنٰهُمْ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے﴿بَیِّنٰتٍ دلائل۔ جو حق کو باطل سے واضح کرتے ہیں۔ ﴿مِّنَ الْاَمْرِ یعنی امر قدری سے جو اللہ تعالیٰ نے ان تک پہنچایا ہے۔ یہ آیات وہ معجزات ہیں جن کا انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سے مشاہدہ کیا، یہ ان سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ بہترین طریقے سے ان کو قائم رکھیں، حق پر مجتمع رہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے واضح کیا ہے۔ مگر انہوں نے اس کے برعکس حق کے ساتھ اس سے متضاد معاملہ کیا جو ان پر واجب تھا۔ پس جس معاملے میں ان کو مجتمع رہنے کا حکم دیا گیا تھا اس میں انھوں نے اختلاف کیا۔ اس لیے فرمایا: ﴿فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ پس انھوں نے جو اختلاف کیا تو علم آجانے کے بعد (آپس کی ضد سے) کیا۔ یعنی وہ علم جو عدم اختلاف کا موجب تھا صرف ایک دوسرے پر ظلم اور زیادتی نے انھیں اس اختلاف پر آمادہ کیا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ یَقْ٘ضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ پس انھوں نے جو اختلاف کیا تو علم آجانے کے بعد (آپس کی ضد سے) کیا۔ پس وہ حق شعاروں کو ان لوگوں سے علیحدہ کر دے گا جنھوں نے باطل کو اختیار کیا اور جن کو خواہش نفس نے اختلاف پر آمادہ کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وآتيناهم}؛ أي: آتينا بني إسرائيل {بيناتٍ}؛ أي: دلالاتٍ تبيِّن الحقَّ من الباطل {من الأمر}: القدريّ الذي أوصله الله إليهم، وتلك الآيات هي المعجزاتُ التي رأوها على يد موسى عليه السلام؛ فهذه النعم التي أنعم الله بها على بني إسرائيل تقتضي الحالُ أن يقوموا بها على أكمل الوجوه، وأنْ يجتمعوا على الحقِّ الذي بيَّنه الله لهم، ولكن انعكسَ الأمر، فعاملوها بعكس ما يجبُ، وافترقوا فيما أمروا بالاجتماع به، ولهذا قال: {فما اختلفوا إلاَّ من بعدِ ما جاءهم العلمُ}؛ أي: الموجب لعدم الاختلاف، وإنَّما حملهم على الاختلاف، البغيُ من بعضهم على بعض والظُّلم. {إنَّ ربَّك يقضي بينهم يوم القيامةِ فيما كانوا فيه يختلفون}: فيميِّز المحقَّ من المبطل، والذي حمله على الاختلاف الهوى أو غيره.