تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 16

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۱۶﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکم اور نبوت دی اور انھیں پاکیزہ چیزوںسے رزق دیا اور انھیں جہانوں پر فضیلت بخشی۔ En
اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ہدایت) اور حکومت اور نبوت بخشی اور پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور اہل عالم پر فضیلت دی
En
یقیناً ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حکومت اور نبوت دی تھی، اور ہم نے انہیں پاکیزه (اور نفیس) روزیاں دی تھیں اور انہیں دنیا والوں پر فضیلت دی تھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ہم نے بنی اسرائیل کو ایسی ایسی نعمتیں عطا کیں جو دوسروں کو حاصل نہ تھیں۔ ہم نے انھیں ﴿الْكِتٰبَیعنی تورات و انجیل سے سرفراز کیا۔ اور ﴿الْحُکْمُ ہم نے انھیں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی قوت اور ﴿النُّبُوَّةَنبوت عطا کی۔ نبوت کی وجہ سے وہ دنیا میں ممتاز ہوئے۔ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے زیادہ بنی اسرائیل کے گھرانے میں نبوت رہی۔﴿وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰؔتِ اور ہم نے انھیں ماکولات، مشروبات اور ملبوسات میں سے پاکیزہ چیزوں سے نوازا اور ان پر من و سلویٰ نازل کیا۔ ﴿وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ اور ان نعمتوں کے ذریعے سے ہم نے انھیں تمام خلائق پر فضیلت دی۔ اس عموم لفظی سے امت محمدیہ خارج ہے کیونکہ امت محمدیہ بہترین امت ہے جو لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ آیت کریمہ کا سیاق دلالت کرتا ہے کہ اس سے امت مسلمہ کے سوا دیگر امتوں پر فضیلت مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل پر احسان کیا اور انھیں دیگر قوموں سے ممیز کیا۔
نیز وہ فضائل جن کی بنا پر بنی اسرائیل کو فوقیت حاصل ہے، مثلاً: کتاب کا عطا کیا جانا، حکومت اور نبوت وغیرہ جیسے دیگر اوصاف تو وہ اس امت کو بھی حاصل ہیں۔اس کے علاوہ اس امت کے بہت سے فضائل ان پر مستزاد ہیں، پھر بنی اسرائیل کی شریعت امت محمدیہ کی شریعت کا ایک جز ہے۔ یہ کتاب عظیم، گزشتہ تمام کتابوں پر نگہبان ہے اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم گزشتہ تمام رسولوں کی تصدیق کرنے والے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ولقد أنعمنا على بني إسرائيل نعماً لم تحصُل لغيرهم من الناس، وآتيناهم {الكتاب}؛ أي: التوراة والإنجيل والحكم بين الناس والنبوَّة التي امتازوا بها، وصارت النبوَّة في ذرِّيَّة إبراهيم عليه السلام، أكثرهم من بني إسرائيل، {ورزَقْناهم من الطيِّبات}: من المآكل والمشارب والملابس وإنزال المنِّ والسلوى عليهم، {وفضَّلناهم على العالمين}؛ أي: على الخلق بهذه النعم. ويخرج من هذا العموم اللفظي هذه الأمة؛ فإنهم خير أمة أخرجت للناس، والسياق يدلُّ على أن المراد غير هذه الأمة؛ فإن الله يقصُّ علينا ما امتنَّ به على بني إسرائيل وميَّزهم على غيرهم.

وأيضاً؛ فإن الفضائل التي فاق بها بنو إسرائيل من الكتاب والحكم والنبوة وغيرها من النعوت قد حصلت كلُّها لهذه الأمة، وزادت عليهم هذه الأمة فضائل كثيرة؛ فهذه الشريعة شريعة بني إسرائيل جزء منها؛ فإنَّ هذا الكتاب مهيمنٌ على سائر الكتب السابقة، ومحمدٌ - صلى الله عليه وسلم - مصدِّق لجميع المرسلين.