تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ الْحُكْمَ: ” الْحُكْمَ “} کا معنی فیصلہ اور قوتِ فیصلہ ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو آزادی اور حکومت بخشی، جس میں وہ اپنے فیصلے خود کر سکتے تھے، کیونکہ اپنی حکومت کے بغیر اسلام پر پوری طرح عمل ہو ہی نہیں سکتا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے نجات اور آزادی ملنے پر بنی اسرائیل کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں بادشاہ بنا دیا، کیونکہ آزاد قوم کا ہر فرد ہی بادشاہ ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ» [المائدۃ: ۲۰] ”اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب اس نے تم میں انبیاء بنائے اور تمھیں بادشاہ بنا دیا اور تمھیں وہ کچھ دیا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔“ بعد میں داؤد علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام اور دوسرے اسرائیلی حکمرانوں کی حکومتیں بھی انھیں اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اس {” الْحُكْمَ “} میں شامل ہیں۔
➌ { وَ النُّبُوَّةَ:} بنی اسرائیل میں جتنے نبی مبعوث ہوئے کسی اور قوم میں اتنے زیادہ نبیوں کے آنے کا کہیں ذکر نہیں۔
➍ { وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ:} ان طیبات میں صحرا کے اندر کھانے کے لیے من و سلویٰ، پینے کے لیے بارہ چشمے اور بادلوں کا سایہ بھی شامل ہے اور بعد میں شام و مصر کی زرخیز و بابرکت زمین کی حکومت اور وہاں سے حاصل ہونے والی بے شمار نعمتیں بھی شامل ہیں۔
➎ { وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۷) اور سورۂ دخان (۳۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس میں اس امت کو چوکنا کیا گیا ہے کہ خبردار تم ان جیسے نہ ہونا، ان کی چال نہ چلنا اسی لیے اللہ جل و علا نے فرمایا کہ تو اپنے رب کی وحی کا تابعدار بنا رہ، مشرکوں سے کوئی مطلب نہ رکھ، بےعلموں کی ریس نہ کر، یہ تجھے اللہ کے ہاں کیا کام آئیں گے؟ ان کی دوستیاں تو ان میں آپس میں ہی ہیں، یہ تو اپنے ملنے والوں کو نقصان ہی پہنچایا کرتے ہیں۔ پرہیزگاروں کا ولی و ناصر رفیق و کار ساز پروردگار عالم ہے، جو انہیں اندھیروں سے ہٹا کر نور کی طرف لے جاتا ہے اور کافروں کے دوست شیاطین ہیں، جو انہیں روشنی سے ہٹا کر اندھیریوں میں جھونکتے ہیں یہ قرآن ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں دلائل کے ساتھ ہی ہدایت و رحمت ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ولقد أنعمنا على بني إسرائيل نعماً لم تحصُل لغيرهم من الناس، وآتيناهم {الكتاب}؛ أي: التوراة والإنجيل والحكم بين الناس والنبوَّة التي امتازوا بها، وصارت النبوَّة في ذرِّيَّة إبراهيم عليه السلام، أكثرهم من بني إسرائيل، {ورزَقْناهم من الطيِّبات}: من المآكل والمشارب والملابس وإنزال المنِّ والسلوى عليهم، {وفضَّلناهم على العالمين}؛ أي: على الخلق بهذه النعم. ويخرج من هذا العموم اللفظي هذه الأمة؛ فإنهم خير أمة أخرجت للناس، والسياق يدلُّ على أن المراد غير هذه الأمة؛ فإن الله يقصُّ علينا ما امتنَّ به على بني إسرائيل وميَّزهم على غيرهم.
وأيضاً؛ فإن الفضائل التي فاق بها بنو إسرائيل من الكتاب والحكم والنبوة وغيرها من النعوت قد حصلت كلُّها لهذه الأمة، وزادت عليهم هذه الأمة فضائل كثيرة؛ فهذه الشريعة شريعة بني إسرائيل جزء منها؛ فإنَّ هذا الكتاب مهيمنٌ على سائر الكتب السابقة، ومحمدٌ - صلى الله عليه وسلم - مصدِّق لجميع المرسلين.