(آیت 55) {يَدْعُوْنَفِيْهَابِكُلِّفَاكِهَةٍاٰمِنِيْنَ:} بے خوف ہو کر منگوانے کا مطلب یہ ہے کہ نہ انھیں یہ فکر ہو گا کہ وہ چیز موجود نہ ہو، نہ یہ کہ قیمت کہاں سے ادا کریں گے، نہ یہ کہ ختم ہو جائے گی، نہ یہ کہ کھانے سے بدہضمی نہ ہو جائے، پھر نہ قبض کا خوف نہ اسہال کا۔ غرض جو چاہیں گے بے فکر ہو کر جنت کے خادموں کو لانے کا حکم دیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
55۔ 1 آمِنِیْنَ (بےخوفی کے ساتھ) کا مطلب ان کے ختم ہونے کا اندیشہ ہوگا نہ کے کھانے سے بیماری وغیرہ کا خوف یا موت، تھکاوٹ اور شیطان کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
55۔ وہ وہاں امن و اطمینان سے ہر قسم کے میوے طلب کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿یَدْعُوْنَفِیْهَا﴾”وہ اس میں منگوائیں گے۔“ یعنی جنت کے اندر ﴿بِكُ٘لِّفَاكِهَةٍ ﴾ ہر قسم کا پھل جن میں سے بعض کا تو دنیا میں نام ہے اور بعض کا دنیا میں نام ہے نہ نظیر ہے۔ وہ جب کبھی بھی انواع و اقسام کے پھل اور میوے طلب کریں گے، ان کے سامنے بغیر کسی مشقت اور تکلیف کے حاضر کر دیے جائیں گے۔ ﴿اٰمِنِیْنَ﴾ وہ ان پھلوں کے ختم ہونے اور ان کے کسی ضرر کے خوف سے مامون، ہر قسم کے تکدر سے پاک اور جنت سے نکالے جانے اور موت سے محفوظ ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يَدْعون فيها}: أي: الجنة {بكلِّ فاكهةٍ}: مما له اسمٌ في الدُّنيا ومما لا يوجدُ له اسمٌ ولا نظير في الدنيا؛ فمهما طلبوه من أنواع الفاكهة وأجناسها؛ أحضر لهم في الحال من غير تعبٍ ولا كلفةٍ، آمنين من انقطاع ذلك، وآمنين من مضرَّته، وآمنين من كلِّ مكدِّر، وآمنين من الخروج منها والموت.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔