تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 37

اَہُمۡ خَیۡرٌ اَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٍ ۙ وَّ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ اَہۡلَکۡنٰہُمۡ ۫ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا مُجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۷﴾
کیا یہ لوگ بہتر ہیں، یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جوان سے پہلے تھے؟ ہم نے انھیں ہلاک کردیا، بے شک وہ مجرم تھے۔ En
بھلا یہ اچھے ہیں یا تُبّع کی قوم اور وہ لوگ جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ ہم نے ان (سب) کو ہلاک کردیا۔ بےشک وہ گنہگار تھے
En
کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم کے لوگ اور جو ان سے بھی پہلے تھے۔ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا یقیناً وه گنہ گار تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَهُمْ خَیْرٌ کیا یہ بہتر ہیں؟ یعنی یہ مخاطبین ﴿اَمْ قَوْمُ تُ٘بَّعٍ١ۙ وَّالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١ٞ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوچکے۔ ہم نے انھیں ہلاک کردیا بے شک وہ مجرم تھے۔ پس یہ لوگ قوم تبع وغیرہ سے بہتر نہیں، یہ بھی جرم کے ارتکاب میں ان کے شریک ہیں۔ پس یہ بھی اس ہلاکت کی توقع رکھیں جو ان کے جرم شریک بھائیوں پر واقع ہوئی تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال تعالى: {أهم خيرٌ}؛ أي: هؤلاء المخاطبون، {أم قومُ تُبَّع والذين من قبلِهِم أهْلَكْناهم إنَّهم كانوا مجرمين}؟ فإنَّهم ليسوا خيراً منهم، وقد اشتركوا في الإجرام؛ فليتوقَّعوا من الهلاك ما أصاب إخوانهم المجرمين.