تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَهُمْخَیْرٌ ﴾”کیا یہ بہتر ہیں؟“ یعنی یہ مخاطبین ﴿اَمْقَوْمُتُ٘بَّعٍ١ۙوَّالَّذِیْنَمِنْقَبْلِهِمْ١ؕاَهْلَكْنٰهُمْ١ٞاِنَّهُمْكَانُوْامُجْرِمِیْنَ﴾”یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوچکے۔ ہم نے انھیں ہلاک کردیا بے شک وہ مجرم تھے۔“ پس یہ لوگ قوم تبع وغیرہ سے بہتر نہیں، یہ بھی جرم کے ارتکاب میں ان کے شریک ہیں۔ پس یہ بھی اس ہلاکت کی توقع رکھیں جو ان کے جرم شریک بھائیوں پر واقع ہوئی تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال تعالى: {أهم خيرٌ}؛ أي: هؤلاء المخاطبون، {أم قومُ تُبَّع والذين من قبلِهِم أهْلَكْناهم إنَّهم كانوا مجرمين}؟ فإنَّهم ليسوا خيراً منهم، وقد اشتركوا في الإجرام؛ فليتوقَّعوا من الهلاك ما أصاب إخوانهم المجرمين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔