تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 36

فَاۡتُوۡا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۶﴾
تو ہمارے باپ دادا کو لے آؤ، اگر تم سچے ہو۔ En
پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ
En
اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے اور اسے عاجز سمجھتے ہوئے کہا: ﴿فَاْتُوْا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰؔدِقِیْنَ پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرلاؤ۔ یہ عناد پسند جہلاء کا مطالبہ تھا، جو بہت دور کی کوڑی لائے تھے۔ بھلا! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور ان جہلاء کے آباء و واجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لانے میں کون سا تلازم ہے؟ آپ کی دعوت کی صداقت پر، آیات و دلائل، ہر لحاظ سے نہایت تواتر سے دلالت کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قالوا متجرِّئين على ربِّهم معجزين له: {فأتوا بآبائِنا إن كنتُم صادقينَ}: وهذا من اقتراح الجَهَلَةِ المعانِدين في مكان سحيقٍ؛ فأيُّ ملازمة بين صدق الرسول - صلى الله عليه وسلم - وأنَّه متوقِّف على الإتيان بآبائهم؛ فإنَّ الآيات قد قامت على صدِق ما جاءهم به وتواترتْ تواتراً عظيماً من كلِّ وجه؟!