تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 38

وَ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿۳۸﴾
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیلتے ہو ئے نہیں بنایا۔ En
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے ان کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا
En
ہم نے زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو کھیل تماشے کے طور پر، عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا، ان کا پیدا کرنا ہی حق ہے اور ان کی پیدائش حق ہی پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے وجود بخشا ہے تاکہ وہ اللہ واحد کی عبادت کریں تاکہ وہ اپنے بندوں کو حکم دے اور منع کرے، ان کو ثواب عطا کرے اور سزا دے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ لیکن ان سب میں سے اکثر نہیں جانتے۔ اس لیے انھوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں کبھی غوروفکر نہیں کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن كمال قدرتِهِ وتمام حكمتِهِ، وأنَّه ما خَلَقَ السماواتِ والأرض لاعباً، ولا لهواً، وسدىً من غير فائدة، وأنَّه ما خلقهما {إلاَّ بالحقِّ}؛ أي: نفسُ خلقهما بالحقِّ، وخلقُهما مشتملٌ على الحقِّ، وأنه أوجدهما لِيَعبدوه وحدَه لا شريك له، وليأمر العبادَ وينهاهم ويثيبَهم ويعاقِبَهم. {ولكنَّ أكثرَهم لا يعلمونَ}؛ فلذلك لم يتفكَّروا في خَلْقِ السماواتِ والأرض.