تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 33

وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنَ الۡاٰیٰتِ مَا فِیۡہِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِیۡنٌ ﴿۳۳﴾
اور ہم نے انھیں وہ نشانیاں دیں جن میں واضح آزمائش تھی۔ En
اور ان کو ایسی نشانیاں دی تھیں جن میں صریح آزمائش تھی
En
اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاٰتَیْنٰهُمْ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الْاٰیٰتِ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِیْهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِیْنٌ جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰ علیہ السلام جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وآتَيْناهم}؛ أي: بني إسرائيل {من الآياتِ}: الباهرة والمعجزات الظاهرةِ {ما فيه بلاءٌ مبينٌ}؛ أي: إحسانٌ كثيرٌ ظاهرٌ منَّا عليهم وحجَّة عليهم على صحَّة ما جاءهم به نبيُّهم موسى عليه السلام.