تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 34

اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾
بے شک یہ لوگ یقینا کہتے ہیں۔ En
یہ لوگ یہ کہتے ہیں
En
یہ لوگ تو یہی کہتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے: ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ بے شک یہ جھٹلانے والے لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور قیامت کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ یہ ہماری بس پہلی بار کی موت ہے اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔ یعنی یہ ہماری صرف دنیا ہی کی زندگی ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا نہ جنت اور جہنم کا کوئی وجود ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى {إنَّ هؤلاء}: المكذِّبين، يقولون: مستبعِدين للبعث والنُّشور: {إنْ هي إلاَّ موتَتُنا الأولى وما نحنُ بمُنشَرينَ}؛ أي: ما هي إلاَّ الحياة الدُّنيا؛ فلا بعثَ ولا نشورَ، ولا جنةَ ولا نارَ.