تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 32

وَ لَقَدِ اخۡتَرۡنٰہُمۡ عَلٰی عِلۡمٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۳۲﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے انھیں علم کی بنا پر جہانوں سے چن لیا۔ En
اور ہم نے بنی اسرائیل کو اہل عالم سے دانستہ منتخب کیا تھا
En
اور ہم نے دانستہ طور پر بنی اسرائیل کو دنیا جہان والوں پر فوقیت دی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلْمٍ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الْعٰلَمِیْنَ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولقد اختَرْناهم}؛ أي: اصطفيناهم وانتَقَيْناهم {على علم}: منَّا بهم وباستحقاقهم لذلك الفضل {على العالَمين}؛ أي: عالمي زمانهم ومَنْ قبلهم وبعدَهم، حتى أتى اللهُ بأمة محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - ففضَلوا العالمينَ كلَّهم، وجعلهم الله خير أمَّة أخرجت للناس، وامتنَّ عليهم بما لم يمتنَّ به على غيرهم.