(آیت 32) ➊ { وَلَقَدِاخْتَرْنٰهُمْ:”اِخْتَرْنَا“”اِخْتَارَيَخْتَارُاِخْتِيَارًا“} (افتعال) سے جمع متکلم ماضی معلوم ہے۔ یہاں بھی {”لَقَدْ“} لانے کا مقصد یہی ہے کہ اتنی پسی ہوئی قوم کو یکایک تمام دنیا پر برتری کیسے مل سکتی ہے؟ فرمایا قسم ہے کہ ہم نے انھیں تمام جہانوں پر چن لیا، پھر ہمارے چنے ہوؤں کو برتری کیوں حاصل نہ ہو گی۔ ➋ { عَلٰىعِلْمٍ:} یعنی ہم نے بلاوجہ ان کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ہمیں ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کا علم تھا اور ہم ان کی خامیوں اور کمزوریوں سے بھی واقف تھے۔ اس علم ہی کی بنا پر ہم نے ان کے زمانے کی تمام قوموں میں سے ان کا انتخاب کیا۔ ➌ {عَلَىالْعٰلَمِيْنَ: ”الْعٰلَمِيْنَ“} سے مراد ان کے زمانے کے جہان ہیں، کل جہان نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو: «كُنْتُمْخَيْرَاُمَّةٍ» [آل عمران: ۱۱۰]کہہ کر تمام امتوں سے بہتر قرار دیا ہے، کیونکہ {”كَانَ“} استمرار پر دلالت کر رہا ہے۔ ہاں بعض جزوی فضائل بنی اسرائیل میں ایسے ہیں جو انھی کی خصوصیت ہیں، مثلاً اتنے انبیاء کا ان میں معبوث ہونا، مگر مجموعی اور کلی لحاظ سے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم افضل ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
32۔ 1 اس جہان سے مراد بنی اسرائیل کے زمانے کا جہان ہے کل جہان نہیں ہے، کیونکہ قرآن میں امت محمدیہ کو کُنْتُمْخَیْرَاُمَّۃٍ کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے یعنی بنی اسرائیل اپنے زمانے میں دنیا جہان والوں پر فضیلت رکھتے تھے ان کی یہ فضیلت اس استحقاق کی وجہ سے تھی جس کا علم اللہ کو ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
32۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے علم کی بنا پر اہل عالم [24] پر ترجیح دی
[24] یعنی یہ بات عرب جانتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں کئی قسم کی خامیاں موجود ہیں۔ تاہم دوسری قوموں کی نسبت پھر بھی بہتر ہیں۔ لہٰذا ہم نے اہل عالم کی دینی قیادت انہیں کے سپرد کر دی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلَقَدِاخْتَرْنٰهُمْ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰىعِلْمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَىالْعٰلَمِیْنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولقد اختَرْناهم}؛ أي: اصطفيناهم وانتَقَيْناهم {على علم}: منَّا بهم وباستحقاقهم لذلك الفضل {على العالَمين}؛ أي: عالمي زمانهم ومَنْ قبلهم وبعدَهم، حتى أتى اللهُ بأمة محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - ففضَلوا العالمينَ كلَّهم، وجعلهم الله خير أمَّة أخرجت للناس، وامتنَّ عليهم بما لم يمتنَّ به على غيرهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔