تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 25

کَمۡ تَرَکُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۲۵﴾
کتنے ہی وہ چھوڑ گئے باغات اور چشمے۔ En
وہ لوگ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے
En
وه بہت سے باغات اور چشمے چھوڑ گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں فرمایا: ﴿كَمْ تَرَؔكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍۙ ۰۰وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ كَرِیْمٍۙ۰۰ وَّنَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوْرَثْنٰهَا وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوْمًا اٰخَرِیْنَ دوسرے لوگوں کو۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ (الشعراء: 26؍59) اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {كم تركوا من جناتٍ وعيونٍ. وزروع ومقام كريم. ونعمةٍ كانوا فيها فاكهينَ. كذلك وأوْرَثْناها}؛ أي: هذه النعمة المذكورة {قوماً آخرينَ}. وفي الآية الأخرى: {كذلك وأوْرَثْناها بني إسرائيلَ}.