تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 19

وَّ اَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ ۚ اِنِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۚ۱۹﴾
اور یہ کہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، بے شک میں تمھارے پاس واضح دلیل لانے والا ہوں۔ En
اور خدا کے سامنے سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے پاس کھلی دلیل لے کر آیا ہوں
En
اور تم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس کھلی دلیل ﻻنے واﻻ ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَّاَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ۔ ﴿اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰ٘نٍ مُّبِیْنٍ بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰ علیہ السلام لے کر تشریف لائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأن لا تَعْلوا على الله}: بالاستكبار عن عبادتِهِ والعلوِّ على عباد الله. {إنِّي آتيكُم بسلطانٍ مبينٍ}؛ أي: بحجَّة بيِّنةٍ ظاهرةٍ، وهو ما أتى به من المعجزات الباهرات والأدلَّة القاهرات.