(آیت 19) ➊ { وَاَنْلَّاتَعْلُوْاعَلَىاللّٰهِ:} اور اللہ کے سامنے اونچے مت بنو، اس کے مقابلے میں سرکشی مت کرو۔ یعنی تمھارا مجھ پر ایمان نہ لانا دراصل اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی ہے، کیونکہ مجھے بھیجنے والا وہ ہے اور جو کچھ میں نے تمھیں کہا ہے وہ میری بات نہیں بلکہ اللہ کی بات ہے جو میں پوری امانت کے ساتھ تمھیں پہنچا رہا ہوں۔ دوسری بات یہ کہ کسی دوسرے کے غلام کو اپنا غلام بنا لینا بہت بڑی سرکشی ہے جو تم نے اللہ کے بندوں کو اپنا غلام بنا کر اس کے مقابلے میں اختیار کر رکھی ہے، اس لیے یہ سرکشی چھوڑ کر انھیں آزاد کر دو۔ ➋ { اِنِّيْۤاٰتِيْكُمْبِسُلْطٰنٍمُّبِيْنٍ:} یعنی اگر تمھیں شک ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نہیں بھیجا تو میں اللہ کی طرف سے اپنے رسول ہونے کی واضح دلیل پیش کرنے والا ہوں جس سے تمھیں میری رسالت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہے گا۔ {”بِسُلْطٰنٍمُّبِيْنٍ“} اگرچہ نکرہ ہے مگر اسم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مراد صرف ایک دلیل نہیں بلکہ عصائے موسیٰ سے لے کر وہ تمام معجزے ہیں جو موسیٰ علیہ السلام پہلی مرتبہ فرعون کے پاس آنے سے لے کر مصر میں قیام کے آخری وقت تک دکھاتے رہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
19۔ 1 یعنی اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کر کے اللہ کے سامنے اپنی بڑائی اور سرکشی کا اظہار نہ کرو۔ 19۔ 2 یہ ما قبل کی علت ہے کہ میں ایسی حجت واضح ساتھ لایا ہوں جس کے انکار کی گنجائش ہی نہیں ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ اور یہ کہ اللہ کے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو [14]۔ میں تمہارے سامنے صریح سند پیش کرتا ہوں
[14] یعنی جب میں اللہ کی طرف سے تمہارے سامنے صریح سند یا ایسے معجزات پیش کر رہا ہوں جو اس کی طرف سے میرے رسول ہونے پر واضح ثبوت ہیں تو پھر جو کچھ دعوت میں پیش کر رہا ہوں وہ اللہ ہی کی دعوت ہے۔ اگر تم میری مخالفت کرو گے اور سرکشی پر اتر آؤ گے تو یہ دراصل اللہ ہی کی سرکشی اور بغاوت کے مترادف ہے۔ اب خود سوچ لو کہ اللہ سے سرکشی کرنے کے بعد تم اس کی گرفت سے بچ سکتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَّاَنْلَّاتَعْلُوْاعَلَىاللّٰهِ﴾”اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔“ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ۔ ﴿اِنِّیْۤاٰتِیْكُمْبِسُلْطٰ٘نٍمُّبِیْنٍ﴾”بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں“ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰ علیہ السلام لے کر تشریف لائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأن لا تَعْلوا على الله}: بالاستكبار عن عبادتِهِ والعلوِّ على عباد الله. {إنِّي آتيكُم بسلطانٍ مبينٍ}؛ أي: بحجَّة بيِّنةٍ ظاهرةٍ، وهو ما أتى به من المعجزات الباهرات والأدلَّة القاهرات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔