تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 85

وَ تَبٰرَکَ الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ۚ وَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۸۵﴾
اور بہت برکت والا ہے وہ جس کے پاس آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ En
اور وہ بہت بابرکت ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کی بادشاہت ہے۔ اور اسی کو قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے
En
اور وه بہت برکتوں واﻻ ہے جس کے پاس آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی بادشاہت ہے، اور قیامت کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور اسی کی جانب تم سب لوٹائے جاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَتَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا اور بابرکت ہے وہ ذات جس کی آسمانوں، زمین اور جو ان کے درمیان موجود ہے، سب پر حکومت ہے۔(تبارک) کا معنی ہے کہ وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے، اس کی بھلائیاں بے شمار، اس کی صفات لامحدود اور اس کی سلطنت بہت عظیم ہے۔ بنابریں فرمایا کہ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز پر حاوی ہے، اس کا علم بہت وسیع ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے حتی کہ تمام امور غیب کا وہ اکیلا ہی علم رکھتا ہے، جن کا علم کوئی نبئ مرسل، کوئی مقرب فرشتہ اور مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں رکھتی۔ اس لیے فرمایا ﴿وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ یہاں افادۂ حصر کے لیے ظرف کو مقدم رکھا ہے یعنی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی؟ اس کا کامل اقتدار اور اس کی وسعت یہ ہے کہ وہ دنیا و آخرت کا مالک ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿وَاِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور وہ تمھارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وتبارك الذي له ملك السمواتِ والأرض وما بينهما}: {تبارك}؛ بمعنى: تعالى وتعاظم وكثُر خيرُه واتَّسعت صفاتُه وعظُم ملكُه، ولهذا ذكر سَعَةَ ملكِه للسمواتِ والأرض وما بينهما، وسَعَةَ علمِهِ، وأنَّه بكلِّ شيءٍ عليمٌ، حتى إنه تعالى انفردَ بعلم الغيوب ، التي لم يطَّلع عليها أحدٌ من الخلق؛ لا نبيٌّ مرسلٌ ولا ملكٌ مقربٌ، ولهذا قال: {وعنده علمُ الساعةِ}: قدَّم الظرفَ ليفيد الحصر؛ أي: لا يعلم متى تجيء الساعةُ إلاَّ هو. ومن تمام ملكِهِ وسعته أنَّه مالك الدُّنيا والآخرة، ولهذا قال: {وإليه ترجعون}؛ أي: في الآخرة فيحكم بينكم بحكمِهِ العدل.