تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 86

وَ لَا یَمۡلِکُ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنۡ شَہِدَ بِالۡحَقِّ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾
اور وہ لوگ جنھیں یہ اس کے سوا پکارتے ہیں، وہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتے مگر جس نے حق کے ساتھ شہادت دی اور وہ جانتے ہیں۔ En
اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں جو علم ویقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں (وہ سفارش کرسکتے ہیں)
En
جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وه شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، ہاں (مستحق شفاعت وه ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اس کا کامل اقتدار ہے کہ اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کا، کوئی ہستی کوئی اختیار نہیں رکھتی اور اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں کوئی کسی قسم کی سفارش نہیں کر سکے گا۔ پس فرمایا: ﴿وَلَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ یعنی انبیاء اور فرشتے اور دیگر لوگوں میں سے ایسی تمام ہستیاں جنھیں اللہ کے سواپکارا جاتا ہےوہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتیں، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گی اور صرف اسی کے حق میں سفارش کر سکیں گی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا۔
بنابریں فرمایا: ﴿اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ یعنی جس نے دل سے حق کا اقرار کرتے ہوئے اور جس امر کی شہادت دی جا رہی ہے اس کا علم رکھتے ہوئے زبان سے حق کی شہادت دی اور اس شرط کے ساتھ کہ یہ شہادت حق کے ساتھ شہادت ہو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی وحدانیت کی شہادت، اس کے رسولوں کے لیے ان کی نبوت و رسالت کی شہادت اور دین کے اصول و فروع، اس کے حقائق اور شرائع کی شہادت جنھیں لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں۔ پس یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں سفارش کرنے والوں کی سفارش فائدہ دے گی اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات پائیں گے اور اس کا ثواب حاصل کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومن تمام ملكِهِ أنَّه لا يملكُ أحدٌ من خلقِهِ من الأمر شيئاً، ولا يقدِم على الشفاعة عنده أحدٌ إلاَّ بإذنه. {ولا يملكُ الذين يدعونَ من دونِهِ الشفاعةَ}؛ أي: كلُّ مَنْ دُعِيَ من دون الله من الأنبياء والملائكة وغيرهم لا يملكونَ الشفاعةَ ولا يشفعونَ إلاَّ بإذن الله ولا يشفعونَ إلاَّ لِمن ارتضى، ولهذا قال: {إلاَّ مَنْ شَهِدَ بالحقِّ}؛ أي: نطق بلسانه مقرًّا بقلبه عالماً بما شهد به، ويشترطُ أن تكونَ شهادته بالحقِّ، وهو الشهادةُ لله تعالى بالوحدانيَّةِ، ولرسله بالنبوَّة والرسالة، وصحَّة ما جاؤوا به من أصول الدين وفروعه وحقائقه وشرائعه؛ فهؤلاء الذين تنفع فيهم شفاعةُ الشافعين، وهؤلاء الناجون من عقاب الله، الحائزون لثوابه.