تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 84

وَ ہُوَ الَّذِیۡ فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّ فِی الۡاَرۡضِ اِلٰہٌ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۸۴﴾
اور وہی ہے جو آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے اور وہی کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اور وہی (ایک) آسمانوں میں معبود ہے اور (وہی) زمین میں معبود ہے۔ اور وہ دانا (اور) علم والا ہے
En
وہی آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی وہی قابل عبادت ہے اور وه بڑی حکمت واﻻ اور پورے علم واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہ اکیلا ہی معبود ہے پس آسمان کی تمام مخلوق اور زمین پر بسنے والے اہل ایمان اس کی عبادت و تعظیم کرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے کمال کے محتاج ہیں۔ ﴿تُ٘سَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ (بنی اسرائیل:17؍44) ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جو بھی ہے، سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔ اورفرمایا: ﴿وَلِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا (الرعد:13؍15) آسمانوں اور زمین کے تمام باسی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، تمام مخلوق جس کی خوشی اور ناخوشی سے عبادت کرتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول کی مانند ہے: ﴿وَهُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَفِی الْاَرْضِ (الانعام:6؍3) یعنی اس کی الوہیت اور محبت آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ خود تمام مخلوق سے جدا اپنے عرش پر ہے، وہ اپنے جلال میں یکتا اور اپنے کمال کے ساتھ بزرگی کا مالک ہے ﴿وَهُوَ الْحَكِیْمُ اور وہ حکمت والا ہے۔ جس نے اپنی مخلوق کو نہایت محکم طور پر تخلیق کیا اور اپنی شریعت کو نہایت مہارت سے وضع کیا۔ اس نے جو چیز بھی پیدا کی کسی حکمت ہی کی بنا پر پیدا کی، اس کا حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی تمام تر حکمت پر مشتمل ہے۔ ﴿الْعَلِیْمُ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہ ہر بھید اور مخفی معاملے کو جانتا ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی میں چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر چیز بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّه وحده المألوهُ المعبودُ في السماواتِ والأرض، فأهل السماوات كلُّهم، والمؤمنون من أهل الأرض يعبدُونَه ويعظِّمونه ويخضعون لجلاله ويفتِقرون لكماله، {تسبِّحُ له السمواتُ السبع والأرضُ ومن فيهن}، {وإن من شيءٍ إلاَّ يسبِّحُ بحمدِه}، {ولله يسجُدُ من في السمواتِ والأرض طوعاً وكرهاً}. فهو تعالى المألوه المعبودُ الذي يألهه الخلائق كلُّهم طائعين مختارين وكارهين، وهذه كقولِهِ تعالى: {وهو الله في السماواتِ وفي الأرض}؛ أي: ألوهيَّته ومحبته فيهما وأما هو فإنه فوق عرشه بائن من خلقه متوحدٌ بجلاله متمجدٌ بكماله. {وهو الحكيمُ}: الذي أحكم ما خلقه، وأتقن ما شرعه؛ فما خلق شيئاً إلاَّ لحكمةٍ، ولا شرع شيئاً إلاَّ لحكمةٍ، وحكمهُ القدريُّ والشرعيُّ والجزائيُّ مشتملٌ على الحكمة، {العليم}: بكلِّ شيء، يعلم السِّر وأخفى، ولا يعزُبُ عنه مثقالُ ذرَّة في العالم العلويِّ والسفليِّ ولا أصغر منها ولا أكبر.