ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 84

وَ ہُوَ الَّذِیۡ فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّ فِی الۡاَرۡضِ اِلٰہٌ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۸۴﴾
اور وہی ہے جو آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے اور وہی کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اور وہی (ایک) آسمانوں میں معبود ہے اور (وہی) زمین میں معبود ہے۔ اور وہ دانا (اور) علم والا ہے
En
وہی آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی وہی قابل عبادت ہے اور وه بڑی حکمت واﻻ اور پورے علم واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 84) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَآءِ اِلٰهٌ …:} مشرکوں نے کچھ معبود آسمان میں بنا رکھے تھے، مثلاً فرشتے، سورج، چاند اور بعض ستارے اور کچھ زمین میں، جیسے انبیاء، اولیاء، ان کی قبریں اور بت، درخت اور پتھر وغیرہ۔ فرمایا، زمین اور آسمان میں الگ الگ معبود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی دونوں کا بلاشرکت غیرے مالک ہے۔ دونوں جگہ اسی کی عبادت ہوتی ہے اور دونوں جگہ عبادت اسی کا حق ہے۔
➋ { وَ هُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ: الْحَكِيْمُ } کمال حکمت والا، جس نے ہر چیز محکم و مضبوط اور حکمت و دانائی کے ساتھ بنائی ہے اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ یہ معبود واحد ہونے کی دلیل ہے کہ کوئی دوسرا نہ حکیم ہے نہ علیم، تو پھر اس کی عبادت کیوں ہو؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

84۔ 1 یہ نہیں ہے کہ آسمانوں کا معبود کوئی اور بلکہ جس طرح ان دونوں کا خالق ایک ہی معبود بھی ایک ہی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

84۔ آسمانوں میں بھی وہی الٰہ ہے اور زمین میں بھی وہی [77] الٰہ ہے اور وہ حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
[77] مشرکوں کے کچھ خدا آسمان میں اور کچھ زمین میں :۔
مشرکوں نے کچھ خدا تو آسمان میں بنا رکھے ہیں۔ جیسے فرشتے، شمس و قمر اور کئی دوسرے سیارے اور کچھ زمین میں جیسے بت، آستانے، شجر و حجر اور بزرگوں کے مزارات۔ پھر وہ سمجھتے بھی نہیں اور اپنی بات پر اکڑ گئے ہیں۔ اور فضول قسم کی کج بحثیوں پر اتر آئے ہیں۔ لہٰذا انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے۔ قیامت کے دن ان کو خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ معبود برحق صرف ایک ہی ذات ہو سکتی ہے۔ اور پوری کائنات کا وہی خالق و مالک ہے۔ صرف اسی کی حکومت ہے اس کا تصرف اور اختیار کارفرما ہے۔ باقی سب چیزیں اس کی مخلوق اور مملوک ہیں جو دوسروں کے نفع و نقصان تو کجا اپنی ذات کے لیے بھی کسی طرح کے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہ اکیلا ہی معبود ہے پس آسمان کی تمام مخلوق اور زمین پر بسنے والے اہل ایمان اس کی عبادت و تعظیم کرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے کمال کے محتاج ہیں۔ ﴿تُ٘سَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ (بنی اسرائیل:17؍44) ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جو بھی ہے، سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔ اورفرمایا: ﴿وَلِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا (الرعد:13؍15) آسمانوں اور زمین کے تمام باسی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، تمام مخلوق جس کی خوشی اور ناخوشی سے عبادت کرتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول کی مانند ہے: ﴿وَهُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَفِی الْاَرْضِ (الانعام:6؍3) یعنی اس کی الوہیت اور محبت آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ خود تمام مخلوق سے جدا اپنے عرش پر ہے، وہ اپنے جلال میں یکتا اور اپنے کمال کے ساتھ بزرگی کا مالک ہے ﴿وَهُوَ الْحَكِیْمُ اور وہ حکمت والا ہے۔ جس نے اپنی مخلوق کو نہایت محکم طور پر تخلیق کیا اور اپنی شریعت کو نہایت مہارت سے وضع کیا۔ اس نے جو چیز بھی پیدا کی کسی حکمت ہی کی بنا پر پیدا کی، اس کا حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی تمام تر حکمت پر مشتمل ہے۔ ﴿الْعَلِیْمُ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہ ہر بھید اور مخفی معاملے کو جانتا ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی میں چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر چیز بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّه وحده المألوهُ المعبودُ في السماواتِ والأرض، فأهل السماوات كلُّهم، والمؤمنون من أهل الأرض يعبدُونَه ويعظِّمونه ويخضعون لجلاله ويفتِقرون لكماله، {تسبِّحُ له السمواتُ السبع والأرضُ ومن فيهن}، {وإن من شيءٍ إلاَّ يسبِّحُ بحمدِه}، {ولله يسجُدُ من في السمواتِ والأرض طوعاً وكرهاً}. فهو تعالى المألوه المعبودُ الذي يألهه الخلائق كلُّهم طائعين مختارين وكارهين، وهذه كقولِهِ تعالى: {وهو الله في السماواتِ وفي الأرض}؛ أي: ألوهيَّته ومحبته فيهما وأما هو فإنه فوق عرشه بائن من خلقه متوحدٌ بجلاله متمجدٌ بكماله. {وهو الحكيمُ}: الذي أحكم ما خلقه، وأتقن ما شرعه؛ فما خلق شيئاً إلاَّ لحكمةٍ، ولا شرع شيئاً إلاَّ لحكمةٍ، وحكمهُ القدريُّ والشرعيُّ والجزائيُّ مشتملٌ على الحكمة، {العليم}: بكلِّ شيء، يعلم السِّر وأخفى، ولا يعزُبُ عنه مثقالُ ذرَّة في العالم العلويِّ والسفليِّ ولا أصغر منها ولا أكبر.