یا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کا راز اور ان کی سرگوشی نہیں سنتے، کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس لکھتے رہتے ہیں۔
En
کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو سنتے نہیں؟ ہاں ہاں (سب سنتے ہیں) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس (ان کی سب باتیں) لکھ لیتے ہیں
کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیده باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے، (یقیناً ہم برابر سن رہے ہیں) بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَمْیَحْسَبُوْنَ ﴾ کیا وہ اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ ﴿اَنَّالَانَ٘سْمَعُسِرَّهُمْ ﴾ وہ بھید جس کو وہ اپنی زبان پر نہیں لائے بلکہ ابھی وہ ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے، ہم سنتے نہیں۔ ﴿وَنَجْوٰىهُمْ ﴾ اور ان کی خفیہ بات چیت کو جو وہ سرگوشیوں میں کرتے ہیں؟ بنابریں وہ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان معاصی پر کوئی متابعت نہیں اور نہ ان باتوں کی سزا ہی ملے گی جو چھپی ہوئی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿بَلٰى ﴾”ہاں، ہاں“ ہم ان کے بھید اور ان کی سرگوشیوں کو جانتے ہیں ﴿وَرُسُلُنَا ﴾”اور ہمارے قاصد۔“ یعنی با تکریم فرشتے ﴿لَدَیْهِمْیَكْتُبُوْنَ ﴾ وہ ان کے تمام اعمال کو لکھتے ہیں اور ان اعمال کو محفوظ رکھیں گے اور جب یہ لوگ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تو وہ ان تمام اعمال کو موجود پائیں گے جو انھوں نے کیے تھے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أم يحسبونَ}: بجهلهم وظلمِهِم {أنَّا لا نسمعُ سرَّهم}: الذي لم يتكلَّموا به، بل هو سرٌّ في قلوبهم، {ونجواهم}؛ أي: كلامهم الخفيَّ الذي يتناجَوْن به؛ أي: فلذلك أقدموا على المعاصي، وظنُّوا أنَّها لا تبعةَ لها ولا مجازاة على ما خفي منها، فردَّ الله عليهم بقوله: {بلى}؛ أي: إنا نعلم سرَّهم ونجواهم، {ورسُلُنا}: الملائكة الكرام {لديهم يكتُبونَ}: كلَّ ما عملوه، وسيحفظُ ذلك عليهم حتى يَرِدوا القيامةَ فيجدوا ما عملوا حاضراً، ولا يظلم ربُّك أحداً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔