ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 80

اَمۡ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّا لَا نَسۡمَعُ سِرَّہُمۡ وَ نَجۡوٰىہُمۡ ؕ بَلٰی وَ رُسُلُنَا لَدَیۡہِمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿۸۰﴾
یا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کا راز اور ان کی سرگوشی نہیں سنتے، کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس لکھتے رہتے ہیں۔ En
کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو سنتے نہیں؟ ہاں ہاں (سب سنتے ہیں) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس (ان کی سب باتیں) لکھ لیتے ہیں
En
کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیده باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے، (یقیناً ہم برابر سن رہے ہیں) بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 80) ➊ { اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ:} یہاں { سِرَّهُمْ } سے مراد وہ باتیں ہیں جو وہ راز کے طور پر ایک دوسرے کے ساتھ خفیہ طور پر آہستہ آواز میں کرتے ہیں، کیونکہ اگر {سِرٌّ} سے دل میں موجود بات مراد ہو تو وہ سنی نہیں جاتی، بلکہ اس کا علم ہوتا ہے اور { نَجْوٰىهُمْ } سے مراد ان کی مجلس مشاورت کی باتیں ہیں۔
➋ {بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ:} یعنی صرف یہی نہیں کہ ہم سنتے ہیں، بلکہ ہمارے فرشتے ثبوت کے طور پر لکھ بھی لیتے ہیں۔ (دیکھیے ق: ۱۷، ۱۸) یعنی ان کی خفیہ تدبیریں تو ہم سن رہے ہوتے ہیں، پھر وہ ان کی کامیابی کی کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

80۔ 1 یعنی جو پوشیدہ باتیں وہ اپنے نفسوں میں چھپائے پھرتے ہیں یا خلوت میں آہستگی سے کرتے ہیں یا آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں، کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم وہ نہیں سنتے؟ 80۔ 2 یعنی یقینا سنتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے الگ ان کی ساری باتیں نوٹ کرتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ یا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کے راز اور مشورے سن نہیں رہے۔ کیوں نہیں بلکہ ہمارے فرشتے [75] ان کے پاس ہی لکھتے رہتے ہیں۔
[75] ان کی خفیہ تدبیروں کی ناکامی کی اصل وجہ یہ تھی کہ جنہیں وہ اپنی خفیہ تدبیریں سمجھتے تھے وہ خفیہ نہیں ہوتی تھیں۔ ہم ان کے سب خفیہ مشورے، ان کی باہمی گفتگو ان کی سازشیں سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہوتے ہیں۔ پھر ہمارے فرشتے یہ سب کچھ ریکارڈ بھی کرتے جاتے ہیں۔ جو قیامت کے دن ہم ان کے سامنے لا رکھیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَمْ یَحْسَبُوْنَ کیا وہ اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ ﴿اَنَّا لَا نَ٘سْمَعُ سِرَّهُمْ وہ بھید جس کو وہ اپنی زبان پر نہیں لائے بلکہ ابھی وہ ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے، ہم سنتے نہیں۔ ﴿وَنَجْوٰىهُمْ اور ان کی خفیہ بات چیت کو جو وہ سرگوشیوں میں کرتے ہیں؟ بنابریں وہ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان معاصی پر کوئی متابعت نہیں اور نہ ان باتوں کی سزا ہی ملے گی جو چھپی ہوئی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿بَلٰى ہاں، ہاں ہم ان کے بھید اور ان کی سرگوشیوں کو جانتے ہیں ﴿وَرُسُلُنَا اور ہمارے قاصد۔ یعنی با تکریم فرشتے ﴿لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ وہ ان کے تمام اعمال کو لکھتے ہیں اور ان اعمال کو محفوظ رکھیں گے اور جب یہ لوگ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تو وہ ان تمام اعمال کو موجود پائیں گے جو انھوں نے کیے تھے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أم يحسبونَ}: بجهلهم وظلمِهِم {أنَّا لا نسمعُ سرَّهم}: الذي لم يتكلَّموا به، بل هو سرٌّ في قلوبهم، {ونجواهم}؛ أي: كلامهم الخفيَّ الذي يتناجَوْن به؛ أي: فلذلك أقدموا على المعاصي، وظنُّوا أنَّها لا تبعةَ لها ولا مجازاة على ما خفي منها، فردَّ الله عليهم بقوله: {بلى}؛ أي: إنا نعلم سرَّهم ونجواهم، {ورسُلُنا}: الملائكة الكرام {لديهم يكتُبونَ}: كلَّ ما عملوه، وسيحفظُ ذلك عليهم حتى يَرِدوا القيامةَ فيجدوا ما عملوا حاضراً، ولا يظلم ربُّك أحداً.